کوئٹہ: بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم کے کیس میں سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بنچ سے الگ کرنے اور جوڈیشل ورک اور کسی بھی بینچ میں شامل نہ کرنے کی عمل کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے عمل سے موجودہ عدلیہ کی منہ پر ایک کالک اور ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔
بلکہ چیف جسٹس کے اس عمل سے یہ بات ثابت ہوگی کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کے زیر تسلط کام کررہے ہیں اور ازاد ججز کو زیر عتاب لانے کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مصروف عمل ہے موصوف نے اپنے اپ کو ان کے حوالے کرچکے ہمیں نہیں معلوم کہ موجودہ چیف جسٹس کی کیا کمزوری خلائی مخلوق کے ہاتھ آئی جسے وہ اتنا بے بس اور کمزور ہوچکا ہے کہ وہ اپنے ادارے کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہے۔
عدلیہ کی آزادی اور ملک کے اند آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے وکلاء نے عوام اور سول سوسائٹی نے مل کر 2007 مئی جو قربانی دی ہے اس تحریک کے بالکل برعکس چیف جسٹس کے اس عمل سے آزاد عدلیہ کا نہ صرف وقار مجروح ہوا بلکہ عدلیہ کی ازادی پر قدغن لگانے کی ایک مذموم سازش بھی ہے بیان میں مزید کہا کہ معزز ساتھی جج کے دیانتداری وحلف کی پاسداری اور بلا امتیاز انصاف کی فراہمی پر کوئی دو رائے نہی چیف جسٹس کے حالیہ اقدام سے نہ صرف بلوچستان کے وکلاء بلکہ پورے ملک کے وکلاء میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ دنوں اسلام آباد کچہری میں وکلاء کے چیمبرز کو مسمار کرنے کی بھی بلوچستان بار کونسل شدید مذمت کرتی ہے بیان میں کہا کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر کے بڑے شہروں میں بااثر افراد کا قبضہ ہے لیکن ان کو آج تک مسمار نہیں کیا بلکہ اسی عدلیہ نے ان کو تحفظ دیا جیسا کہ حیات ریجنسی ٹاورز بحریہ کراچی اور بنی گالہ جو موجودہ وزیر اعظم کے زیر استعمال میں ہے انکو قانونی پروٹیکشن اور دوسرے جانب وکلاء کے چیمبرز کو مسمار کرنا ایک سوچھی سمجھی سازش ہے۔
اور اسلام آبادہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وکلاء کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرنے سے اسٹیبلیشمنٹ پوری زور وشور سے فائدہ اٹھا ئیگی لہٰذا اس صورتحال میں دونوں فریقین کو مل بیٹھ کر چیمبرز کا قابل عمل نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے بلوچستان بار کونسل اسلام آباد کے وکلاء کے چیمبرز مسمار کرنے اوربا شعور وکلاء کے خلاف بے بنیاد ایف آئی ار درج کرنے اور وکلاء کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد بار کونسل اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے اور انکے شانہ بشانہ جہدوجہد کا اعادہ کرتا ہے۔
بیان میں کہا ہے کہ آج 15فروری 2021بروز سموار بلوچستان بار کونسل کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بینچ سے علیحدہ کرنے اور جوڈیشل ورک سے روکنے اور کسی بھی بینچ کا حصہ نہ بنانے کے خلاف پورے بلوچستان میں عدالتی کاروئی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتاہے اور آج کوئی بھی پورے بلوچستان کے عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔