|

وقتِ اشاعت :   February 14 – 2021

کوئٹہ: پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین عبدالواحد بڑیچ نے صوبے کے سرکاری گوداموں میں گندم کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان ، صوبائی وزیر خوراک سے اپیل کی ہے کہ وہ فلور ملوں کو گندم کی فراہمی ممکن بنانے،گندم کی بروقت خریداری اور اس بابت طریقہ کار و حکمت عملی وضع کرنے کیلئے فلور ملز مالکان کے ساتھ باہم گفت شنید کریں۔

تاکہ گزشتہ برس کی طرح بحرانی صورتحال سے بچا جا سکیں۔اپنے بیان میں عبدالواحد بڑیچ نے کہا ہے کہ سرکاری گوداموں میں گندم کی کمی آٹا کی قیمتوں میں اضافہ کا موجب بنے گا ہمیں تشویش ہے کہ سرکاری گوداموں میں گندم کی مقررہ مقدار موجود نہیں،موجودہ صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے حکومت اور وزارت خوراک بلوچستان میں فلور ملوں کو گندم کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ عوام کو آٹے کی مناسب نرخ پر دستیابی کو ممکن بنایا جا سکے۔

بلکہ اسے آٹا اور گندم کی قیمتوں میں استحکام بھی آئے گا۔انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور صوبائی وزیر خوراک سے اپیل کی کہ وہ گندم کی خریداری اس کی فلور ملوں اور اوپن مارکیٹ کو سپلائی کیلئے فلور ملز مالکان کے ساتھ باہم گفت و شنید کر کے پالیسی مرتب کریتاکہ گزشتہ سال ملک بھر کی طرح کے بحرانی کیفیت سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت اور وزارت خوراک کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ پالیسی کیلئے گفت و شنید نہیں کی گئی۔

اسی لئے پالیسی اور حکمت عملی کا فقدان نظر آیااس لئے قبل از وقت حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے اس سے نا صرف فلور ملوں کو گندم کی سپلائی ممکن بنا کر انڈسٹری کو بچایاجا سکتا ہے بلکہ اسے عوام کو ارزاں نرخوں آٹا بھی میسر آئے گا۔