|

وقتِ اشاعت :   February 14 – 2021

پشین: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبد الواسع نے کہا ہے پی ڈی ایم ملک بھر کے عوام کی جمہوری اور سیاسی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے، موجودہ حکمران سابق ڈکٹیٹر مشرف کے نقش وقدم پر ملک کے دینے مدارس کے خلاف سازشیں کرکے ملک کو ایک بار پھر دوعشرے قبل کی سیاست کی جانب لیجانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین کے علاقے کلی کربلا میں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے زیراہتمام ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرت ہوئے کیا،جس سے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر ایم این اے مولانا کمال الدین، سابق صوبائی وزیر مولانا عبدالباری آغا، سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی سید مطیع اللہ آغا، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر حامدخان اچکزئی۔

سابق رکن صوبائی اسمبلی سید لیاقت آغا، صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمدعیسیٰ روشان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سابق مئیر سید شراف آغا، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید عبدالباری آغا، ضلعی صدر عبدالباری کاکڑ، سابق چیئرمین سید شاہجہان آغا،، جمیعت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عزیزاللہ حنفی،حلقہ پی بی 20کے امیدوار سید عزیز اللہ آغا، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ضلعی صدر سعداللہ ترین، جمعیت علماء اسلام پشین کے تحصیل جنرل سیکرٹری حافظ محمدسلیم شاکر۔

پشتونخوا میپ کے ضلعی معاون امین اللہ بشر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ جلسے میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء سابق وفاقی وزیر حاجی رحمت اللہ کاکڑ اورکوئٹہ کے سابق امیر مولانا ولی محمدترابی نے بھی شرکت کی۔ مولانا عبدالواسیع نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل اتحادی جماعتیں پشتونخواملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین مولانا فضل الرحمٰن، مشر محمودخان اچکزئی اور اسفندیار ولی خان سمیت پی ڈی ایم کے دیگر قائیدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جن کی مسلسل کوششوں کے بعد ملک کی تمام جمہوری اور حقیقی سیاسی قوتیں پی ڈی ایم کی شکل میں ایک پلیٹ پر یکجا ہوئیں، اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ عوام کی خواہش اس سے قبل بھی یہی تھی۔

جو دیر آید درست آید کے مصداق ہمارے قائیدین کے کاوشوں کے بعد یہ خواب اب شرمندہ تعبیر ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جمہوری اور غیرجمہوری قوتوں کے مابین جنگ روز اول سے جاری ہے، ہم پہلے بھی ایک ہی ایجنڈے کے تحت اس سیاسی کاروان میں ایک دوسرے کے ہم سفر تھے، اگرچہ درمیان میں ہمارے راستے جدا ہوئے لیکن یہ وہی خان شہید عبدالصمدخان اچکزئی، خان عبدالغفارخان باچا اور شیخ الہند کی تحریکوں کا تسلسل ہے۔

جن انگریزوں اور اَمر قوتوں کے خلاف وہ جدجہد کررہے تھے، آج بھی انہی پالیسیوں کے خلاف ہماری جدوجہد جاری ہے، انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہم اس خوش فہمی کا شکار رہے کہ اب یہاں جمہور اور عوام کی رائے پر مبنی طرزحکمرانی قائم ہوگی لیکن ہمیں یہ احساس نہ رہی کہ انگریزوں نے اپنے زرخرید ایجنٹس یہاں چھوڑ کر اپنی پالیسیوں کو دوام دیتے ہوئے جاری رکھا۔

صرف چہرے تبدیل ہوئے،بلکہ ان کے باقیات ان سے بھی زیادہ ان کے وفادار ثابت ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کے بعد یہاں کے عوام کی جمہوری اور سیاسی آزادی پر مشتمل جمہور کی حکمرانی کے قیام کی ہماری خوش فہمی غلط ثابت ہوئی، اور اس ملک کے قیام کے 75سال بعد بھی یہاں کے عوام پر ظلم اور ناانصافی پر مبنی حکمرانی مسلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ایک بار پھر شیخ الہند، خان شہید اور باچا خان کی جدوجہد کو دہرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔اور انہی کی نقش قدم پر چلتے ہوئے باہم یکجا ہوگئے ہیں۔تاکہ ان ایجنٹس پر مشتمل مسلط حکمرانوں سے نجات حاصل کرسکیں۔انہوں کہا کہ مسئلہ ایک حلقے کے انتخابات اور ووٹ کا نہیں ہے بلکہ آج تو ہمارے مخالفین بھی تسلیم کررہے ہیں کہ آج ہمارے مقابلے میں تمام جو امیدواران انتخابات لڑرہے ہیں ۔

ان کو انتخابی میدان میں ایک ہی جانب سے اتارا گیا ہے تاکہ پی ڈی ایم کے امیدوار کو ہرایا جاسکیں، اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہمارے انتخابی نشان سے مشابہہ کسی کو اینٹ، کسی کو سوٹ کیس اور کسی کو ماچس کا نشان آلاٹ کیا گیا۔ان لوگوں کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں لیکن عوام کو دھوکہ دینے کیلئے اب ناکامی کے یہ حربے استعمال کررہے ہیں۔جو اس بات کی دلیل ہے کہ ماضی میں بھی ہم عوام کے نمائندے تھے۔

اور مستقبل میں بھی پی ڈی ایم ہی اپنے عوام کی حقیقی نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی کامیابی کے اثرات ان عناصر بھی پڑیں گے جنہوں نے ان غیرجمہوری عناصر کو یہ کاز دی ہے۔ہم نے اپنے عوام کے توسط سے اب یہ ثابت کرنا ہے کہ یہاں کے عوام صرف پی ڈی ایم کو اپنی نمائندگی کا حق دیتے ہوئے غیرجمہوری قوتوں کو شکست فاش سے دوچار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین نے اپنے لئے گائے کا نشان منتخب کیا ہے، ہندووں کے مذہب میں اسے ایک مقدس حیوان گردانا جاتا ہے اگر یہ نشان ہمارے پی ڈی ایم کے کسی اتحادی جماعت کا ہوتا تو ہمیں مودی کے ایجنٹ کے القابات سے نوازکر ہندوو? ں کے پیروکار سمجھتے۔اور ہمارے خلاف غداری کے ٹھاپے لگاکر نہیں تکتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے عرصے میں ملک پر مسلط کردہ حکمرانوں نے ملک پر تاریخ کی۔

بدترین مہنگائی اور معاشی دیوالیہ پن کا شکار بناکر سکت تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے لوگ اپنے بال بچوں سمیت خود کشی پر مجبور ہوگئے ہیں،جبکہ جعلی حکمران یہ دعوے کرکے نہیں تکتے کہ ملک کی معیشت استحکام کی جانب جارہی ہے، پی ڈی ایم انہیں حالات کے نتیجے میں بن گئی ہے ملک سمیت بلوچستان کی عوامی نمائندگی کے حامل تمام جماعتیں پی ڈی ایم کے شانہ بشانہ ہیں۔

ہمارا مینڈیٹ اپنے عوام کی سیاسی اور معاشی آزادی کے حصول کیلئے ہے، آج اگر پارلیمنٹ میں پشتونخوا میپ، اے این پی اور جمعیت علماء اسلام کا یک بھی رکن ہو وہ اپنے عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کررہے ہے، غیرجمہوری قوتوں کے ساتھ ملک کے عوام کی کوئی فکر نہیں وہ صرف اپنے اندرونی اور بیرونی آقاؤں کی خوش نودی کیلئے لوگوں کو ورغلانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

پاکستان کے مظلوم اور محکوم عوام بالخصوص بلوچستان کے عوام کا مداوا صرف پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے ذریعے پارلیمنٹ کے ایوانوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ملک کی خودمختاری اور غیرجمہوری اقدامات کے حوالے سے جو بل پیش ہوئے ہیں، صرف جمیعت علماء￿ اسلام، پشتونخوا میپ اور اے این پی نے عوامی مفادات کے برعکس پالیسیوں اور ملک کے وقار کے منافی ان بلوں کی مخالفت کرتے ہوئے غیرجمہوری اقدامات کا راستہ روکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی غلط سفارتکاری کے نتیجے میں آج ہماری ملک اقوام عالم میں گرے لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے اور دنیا ہمیں غلط نظر سے دیکھ رہی ہے،بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے باوجود چھ ماہ کے عرصے کے بعد بھی ہمیں اس گرے لسٹ سے نکال نہیں دیا گیا ہے بلکہ اب خدشہ ہے کہ ہمیں بلیک لسٹ میں شامل نہ کیا کیا جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی غلط پالیسیوں ہم دنیا میں تنہائی کا شکار ہوگئے ہیں ان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی سمیت معاشی ایجنڈا مکمل ناکامی کا شکارہوکر ہر فورم پر رسوائی کا سامنا کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنا کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائیں جس کی ہم کسی صور ت اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ جنہیں ملک کی پارلیمنٹ نے بڑی تگ ودو کے بعد پاس کرواکر۔

نافذ کی کے خلاف سازشیں شروع کردی گئی ہیں۔آٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرکے دہشت گردی کو اس سے بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے، دینی مدارس کے خلاف ایک بار پھر سازشوں کا جال بچھاکرماڈل مدارس جیسے سابق ڈکٹیٹر مشرف کے اقدامات کو دہرانے کی کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں، پی ڈی ایم ان غیرجمہوری اقدامات اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنے عوام کے جمہوری حقوق اور پارلیمنٹ کے وقار کیلئے سرگرم عمل ہے۔

اپنے مقاصد کے حصول اور غیرجمہوری عناصر کا راستہ روکنے کیلئے ملک کے عوام کو پی ڈی ایم کے ہاتھ مضبوط کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہماری کوشش تھی کہ ملک کے تمام جمہوری قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے عوام کیلئے ایک جمہوری سمت کا تعین کرلیں۔

ہمارا واضح ایجنڈا ہے کہ ان غیرجمہوری عناصر سے نجات حاصل کرکے ایک جمہوری اور عوامی حکمرانی قائم کی جائے، انہوں نے کہا کہ 16فروری کو ضلع پشین کے عوام پی ڈی ایم اتحاد کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرکے حق اور باطل کی اس انتخابی میدان میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔