اسلام آباد: لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے ملاقات کی جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے قومی کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں قومی کمیشن نے 31 جنوری 2021 تک 4822 کیسز نمٹانے پر شکریہ ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے ملاقات کی۔ملاقات میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے لواحقین نے قومی کمیشن کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال اور دیگر معزز ممبران کی ذاتی کوششوں کا شکریہ ادا کیاجس کے نتیجہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے قومی کمیشن نے 31 جنوری2021 تک4822 مجموعی لاپتہ افراد کے کیسز نمٹا نے ہیں۔
اور اس وقت لاپتہ افراد کی تعداد 2122ہے۔ جن کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔گزشتہ ماہ صرف بلوچستان سے 290افراد کا پتہ چلایا جو کہ اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی کمیشن کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ لاپتہ افراد کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لواحقین کی شکایات کا جائزہ لینے کے لئے بہت جلد کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔
مزید بر آں لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن نے باقاعدہ طور پروفاقی اور صوبائی دفاتر میں سماعتیں کرونا کی پالیسی کاجائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق شروع کر دی ہیں جن میں کرونا سے بچاؤکے لئے تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
لاپتہ افراد کے کمیشن کے چئیرمین کی حیثیت سے جسٹس جاوید اقبال اپنے عہدے کی تنخواہ نہیں لیتے اورنہ ہی سرکاری وسائل استعمال کرتے ہیں بلکہ لاپتہ افراد کے قومی کمیشن کے چئیرمین کی حیثیت سے کام کرنے کواپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔