|

وقتِ اشاعت :   February 15 – 2021

نوشکی: متحدہ قبائل آل پارٹیز کے اپیل پر برج عزیز خان ڈیم کے تعمیر کے خلاف نوشکی میں سوموار کے روز مکمل شٹر ڈاون ہڑتال رہی۔شٹر ڈاون ہڑتال کے موقع پر شہر کے اہم تجارتی و کاروباری مراکز، مارکٹیں،مالیاتی و پرائیویٹ ادارے مکمل بند رہے جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے انتہائی کم رہی۔اس موقع پر متحدہ قبائل اور آل پارٹیز کے رہنماء شہر میں گشت کرتے رہے۔

متحدہ قبائل اور آل پارٹیز کے رہنماوں میر خورشید جمالدینی،مولانا زکریا عادل حاجی منظور احمد مینگل،سردار چنگیز مینگل،فاروق بلوچ،نذیر بلوچ، میر نوروز خان بادینی،میر اعظم ماندائی،حاجی عبدالسلام ماندائی،حافظ مطیع الرحمان مینگل میر ثناء اللہ جمالدینی، حمید بلوچ و دیگر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر سے ضلع نوشکی اور چاغی کے میدانی علاقے مکمل بنجر ہوکر رہ جائیں گے۔

اور وہاں آباد قبائل کے لوگ پانی کی قلت اور زراعت و مالداری کے خاتمے پر نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے قبل بلکہ سینکڑوں سالوں سے ان علاقوں کو سیلابی پانی سے سیراب کیا جاتا رہا ہے اور ان سرحدی علاقوں کے لوگوں کو گزر بسر اسی سیلابی پانی پر تھا۔جبکہ قبائل کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضیات سیراب ہوتی ہیں۔جس سے قبائل کے ہزاروں افراد کی گزر بسر ہوتی ہے۔

مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومت بلاجواز برج عزیز خان ڈیم بناکر ان علاقوں کو بنجر اور ریگستان میں تبدیل کرنا چاہتی ہے جسکی ہم ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔نوشکی اور چاغی کو سیراب کرنے والی پانی کو روکنا ان علاقوں کے قبائل اور یہاں کے باسیوں کے معاشی قتل عام کی سازش اور حکومت کا گھناونا سازش ہے جسکے خلاف نوشکی اور چاغی کے قبائل احتجاج پر مجبور ہیں۔

کامیاب شٹرڈاون ہڑتال برج عزیز خان ڈیم کے خلاف نوشکی کے عوام کا ریفرنڈم ہے نوشکی کے قبائل سمیت تمام مکتبہ فکر کو ڈیم کے قیام سے تحفظات ہیں اور نوشکی کے عوام نے حکومت کے فیصلوں کو مسترد کردیا ہے۔کامیاب شٹرڈاون ہڑتال پر نوشکی کے تمام مکاتب فکر کے مشکور ہیں جنہوں نے شٹرڈاون ہڑتال کو کامیاب بناکر حکومتی سازشوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہماری احتجاج برج عزیز خان ڈیم کے تعمیر روکنے تک جاری رہی گی اور پرامن و جمہوری احتجاج کے تمام ذرائع استعمال کرینگے بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہونے کے باجود پاکستان کا پانی نہیں روک رہا۔

مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومت نوشکی اور چاغی کے عوام کے مرضی و منشاء کے بغیر ڈیم بنانے پر بضد ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ڈیم کی تعمیر روک کر متبادل ذرائع اور متبادل جگہوں پر ڈیم بنائے تاکہ نوشکی اور چاغی کے عوام کو معاشی نقصان سے بچایا جاسکے۔