کوئٹہ: گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سے نہ صرف دنیابھر میں معاشی جمود کا خاتمہ ہوگا بلکہ یہ پورا خطہ معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنے گا. گورنر یاسین زئی نے بوستان انڈسٹریل زون میں کام کی رفتار کو تیز کرنے زور دیا تاکہ مقامی تاجر اور صنعتکار یہاں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اختر کاکڑ کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کئی. ملاقات کے دوران خطے میں رونما ہونے والی معاشی تبدیلیوں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تجارت کے نئے امکانات اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنے پر تبادلہ خیال کیا. گورنر بلوچستان نے کہا ہے۔
ہمیں سی پیک کے پیش نظر اپنی نئی نسل کو جدید فنی اور تیکنیکی مہارتیں سکھانے پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی. اس ضمن میں ضروری ہے کہ حکومت موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر صوبے میں تمام فنی وتیکنیکی اداروں کی مکمل فعالیت کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیں اور جدید مہارتیں سکھانے کے نئے مراکز کے قیام کیلئے بھی جامع حکمت عملی وضع کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملک و صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، لوگوں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے اور قومی معاشی نظام کو استحکام بخشنے میں تاجروں اور صنعتکاروں کا کلیدی کردار ہے. وفد نے گورنر بلوچستان کو صوبہ کے تاجروں کو امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ، بوستاں صنعتی زون کی جلد تکمیل، ایگریکلچر انکم ٹیکس، بنک قرضوں اور سرحدی تجارت کے حوالے سے درپیش مسائل ومشکلات سے آگاہ کیا۔
گورنر یاسین زئی نے اپنے ہر تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر کے تاجروں کو درپیش مسائل ومشکلات کا ہمیں احساس ہے. جان لیوا کروناوائرس کی وجہ سے کاروباری اور تجارتی مراکز کی بندش سے زندگی کے تمام شعبے بالخصوص تاجر برادری بہت زیادہ متاثر ہوچکی ہے تاہم حکومت تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور معاشی استحکام کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔