کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے کئی سالوں سے ہزاروں لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی یا انکے قانون کے مطابق عدالت میں پیشی کے لیئے اس وقت سرد موسم میں اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاجی دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔
مگر افسوس کہ موجودہ حکومت ان کے دکھ اور درد کا مدوا کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر ان کے زمہ دار وزیر معتصبانہ اور نفرت انگیز بیانات دیکر اشتعال انگیزی کے مرتکب ہو رہے ہیں، اس سے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے اندر فیڈریشن کی سیاست کو نقصان پہنچ رہا ہیں، جس کی ہم پرزور الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔
آئے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ مبینہ طور پر لاپتہ ہورہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کا روز اول سے مطالبہ رہا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے یا کم از کم قانونی تقاضوں کے مطابق عدالتوں میں انہیں پیش کئیے جائے ان کے لواحقین اس وقت شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ شروع دن سے سیاسی رہا ہے جب کہ حکمران طبقہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال سے مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
آج بھی ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران طبقہ طاقت کے استعمال کی بجائے بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر بلوچ ناراض قیادت سے بات چیت اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ دہائیوں سے چلے اس مسئلے کا سیاسی حل نکل سکے۔