|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2021

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں کی منظوری پر شادیانے بجانے والے کسی قوم کومستقل غلامی کی جال میں دیے رہے ہیں۔یہی حکمران کہتے تھے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں کے بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے۔سودی مالیاتی ادارو ں کی شرائط پر بھاری سودی قرضے بدعنوان حکمران اورسودی اداروں کے اہلکارکھاجاتے ہیں۔

جبکہ ادائیگی کیلئے قومی خزانہ پیش کیاجاتاہے اکثرسابقہ وموجود ہ حکمران بین الاقوامی مالیاتی اداروں وامریکہ کے اہکارثابت ہوئے ہیں کیا قوم بھاری سودی قرضوں کے حصول پرشادیانے بجاتے ہوئے قوم کو خوشخبری دے سکتے ہیں بین الاقوامی مالیاتی سودی اداروں کے قرضے قوم کی تباہی غلامی وبربادی کے راستے ہیں جس سے اُن کے غلام حکمران بخوشی نبھارہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمران بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح بلوچستان کیساتھ ناانصافی کر رہے ہیں اس جرم میں صوبائی حکومتیں بھی وفاقی حکومتوں کے حامی ومددگارہیں۔حکمرانوں کا لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مجرمانہ کردار باعث شرم ہیں عوام کے بے گناہ جگرگوشوں کو فی الفوربازیاب کیے جائیں اوراگرلاپتہ افرادمیں کوئی کسی جرم میں ملوث ہیں تو عدالت کے حوالے کرکے سزادی جائیں۔

کچھ لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعدمزید غائب ہونالمحہ فکریہ ہے۔سینٹ الیکشن میں ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت میں ملوث کردار وں کو بے نقاب اورانہیں ہمیشہ کیلئے نااہل کیے جائیں جماعت اسلامی ہر قسم کے مظالم کے خلاف اور حق وسچ او رانصاف کیساتھ ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ حکومت مدینہ کے اسلامی ریاست کے نام پر سابقہ حکومتوں کی راہ پر گامزن ہوکر قوم کو تباہ وبرباد اور امریکی وآئی ایم ایف کا ایجنڈاچلارہے ہیں جس کی وجہ سے بھاری قرضے،بدترین مہنگائی وبے روزگاری اور بدعنوانی کا بازارگرم ہیں قوم کو دیانت دار حکمران اور اسلامی نظام تباہی وبربادی سے بچاسکتے ہیں۔