|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2021

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر من و عن عملدآمد کرکے قرضہ بحال کروا لیا ہے لیکن اس کے غمیازہ عوام کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کی صورت میں بھگتنا پڑیگا، حکومت آئی ایم ایف کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی ہے حکومتی معاشی پالیسی کی ملکی معیشت زبوں حالی کا شکا رہورہی ہے۔

یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کہتی تھی کہ وہ معیشت کو بہتر کریں گے اور قرضے نہیں لیں گے حکومت نے گزشتہ دو سالوں کے دوران معیشت کی بحالی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے خاتمے اور چھ،چھ ماہ تک قرض نہ لینے کے دعوے کیے لیکن گزشتہ روز معلوم ہوا کہ دراصل آئی ایم ایف نے اپنی شرائط کے پورا کرنے تک حکومت کو قرض دینے سے منع کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ابتر حکمت عملی کی وجہ سے ملک کو معاشی عد م استحکام کی جانب سے دھکیل رہی ہے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عملدآمد کرنے کے بعد ملک میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسوں کی بوچھاڑ ہوگی جس کا براہ راست بوجھ مہنگائی کی ستائی عوام پر پڑے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے جب آئی ایم ایف پروگرام میں جانا ہی تھا تو پہلے اتنے دعوے کیوں کئے گئے۔

آج ملک معاشی بحرانوں کی دلدل میں پھنس چکا ہے اگر اب بھی معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو ملک کی بقاء و سالمیت کو خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر معاشی مسائل حل کرے اگر وہ ایسا نہیں کرسکتی تو مستعفی ہو جائے اور اہل لوگوں کو حکومت کرنے دی جائے۔