کوئٹہ: گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ ہم نوجوان نسل کے مسقبل کو محفوظ بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار رہے ہیں۔ وفاق اور صوبہ پنجاب میں بلوچستان کے طلباء کی اسکالرشپ اور میڈیکل سیٹوں کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
توقع ہے کہ بلوچستان کے طلباء کو درپیش مشکلات کا بہت جلد پائیدار حل نکالا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز گورنرہاوس کوئٹہ میں پشتونخوا میپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے کی قیادت میں صوبہ بلوچستان کی میڈیکل سیٹوں پر منتخب ہونے والے طلباء پر مشتمل ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کئی۔ رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے گورنر کو طلباء کو درپیش مشکلات اور اس ضمن میں سینٹ اور صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے والی قرارداد سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر یاسین زئی نے وفد کو بتایا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کو درپیش مشکلات سے صوبہ پنجاب اور وفاق کے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو بھی آگاہ کیا اور اس بات پر یقین کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے طلباء کیلئے سکالرشپ کی بحالی، میڈیکل سیٹوں اور دیگر تعلیمی مسائل کے حل کیلئے کی گئیں کاوشوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
دیں اثناء گورنر بلوچستان نے سابق سینیٹر ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے کہا کہ بلوچستان کی آبادی قلیل مگر منتشر ہے۔اس حوالے سے موجودہ حکومت متوازن اور یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے اور صوبے کے دورافتادہ اضلاع میں عوام کو ترجیحی بنیادوں پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے سنجیدہ کاوشیں کر رہی ہے۔
اس موقع پر سابق وفاقی وزیر رحمت اللہ کاکڑ، میر عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ اور نجم مینگل ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، وکلاء کے حقوق و تحفظ کی پاسداری اور صوبے کی پائیداری ترقی اور خوشحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔