|

وقتِ اشاعت :   February 19 – 2021

خضدار: مدرسہ جامعہ جعفر طیارؓ خضدار کے زیر اہتمام سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کے مہمان خاص جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماء سینیٹر حافظ حمد اللہ تھے ،جب کہ صدارت سائیں عبداللہ کررہے تھے ۔ اعزازی مہمانوں میں سابق رکن قومی اسمبلی مولانا قمرالدین ، ایم پی اے میر یونس عزیز زہری، مولانا محمد نصیب مینگل سمیت دیگر تھے ، تقریب کے منتظم جامعہ ہذا کے مدیر مولانا عبدالصمد قاسمی شاہوانی تھے۔

جب کہ ان کا والد سائیں عبداللہ دستارِ فضیلت کانفرنس کی صدارت کررہے تھے ۔دستار فضیلت کانفرنس کا آغاز صبح دس بجے باقاعدہ تلاوتِ کلام پاک سے ہوئی اور جوقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہی، ختم ِ بخاری شریف کا درس حافظ حمداللہ نے دیا ،درسِ نظامی مکمل اورقرآن پاک حفظ کرنے والی طالبات کی چادر پوشی کی گئی۔تقریب سے جے یوآئی کے مرکزی سرپرست مولانا قمرالدین ، رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری۔

مفتی عبدالقادر شاہوانی ، مولانا عنایت اللہ رودینی ، سردار علی محمد قلندرانی ، وڈیرہ غلام سرور موسیانی ، جسٹس ریٹائرڈ میر عبدالقادر مینگل ، مولانا محمد صدیق مینگل ، علی احمد پنجگوری ، شاعر جمعیت حافظ غلام اللہ ، مولانا محمد نصیب ، مولانا عبدالصمد قاسمی ، احمد ودیگر نے خطاب کیا ۔ تقریب سے مولانا حافظ حمد اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دینی ادارے ملک وملت کے محافظ دینی تعلیمات کا مرکز و محور ہیں۔

ان اداروں نے ملک کو جید علمائے کرام ، تلفظ کے ساتھ قرآن پڑھنے والے حفاظ کرام، سیاستدان ، ادیب دانشور، مصنف ، مقرر اور خطیب دیئے ہیں ، جو قوم کی رہنمائی بھی جانتے ہیں اور تربیت کے اصولوں کو بھی پہچانتے ہیں ، جو شعوروآگاہی سے بھی واقف ہیں او راقدار کی پیروی بھی کرتے ہیں، علمی صلاحیتوں سے لبریز بھی ہیں اور تصوف و درس وتدریس کو بھی جانتے ہیں ۔اس قوم پر دینی اداروں کا احسانِ عظیم ہے۔

جو ان کو دنیاء کے اصو ل و قوائد اور آخرت کی فکر سے آگاہ اورشریعت و طریقت سے ہم آہنگ کرتے ہیں ۔ باوجود اس کے ان اداروں کو بلا وجہ دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ ناانصافی اور بلا اشتعال علمائے کرام کے جذبات کو ابھارنے کے مترادف ہے ، ملک میں کبھی بھی ریاست نے ان دینی اداروں کی حوصلہ افزائی نہیں کی نہ ان کی اسناد کو وہ معیار دیا جو کہ ان کا حق بنتا ہے ۔

او رنہ ہی ان کی رفاہی علمی خدمات کی تعریف کی بلکہ اس کے بر عکس دینی مدارس کو اپنے کنٹرول میں لانے اور علمائے کرام و طلبائے کرام کو پریشان کرنے کی کوشش کی گئی ، یہ ادارے قال اللہ و قال رسول کے مراکز ہیں جو پیغمبری دعوت کو آگے بڑھا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے امت کو آگاہ کررہے ہیں ان دینی اداروں اور ان میں بسنے والوں کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ ہی علمائے کرام ، طلبائے کرام کو ان کی دینی و ملی خدمات کا صلہ عطاء فرمائے گا۔

حافظ حمد اللہ نے کہاکہ حالیہ دنوں میں حکومت نے دینی مدارس کی حیثیت اور ان کے تعلیمی بورڈ کو غیر موثر بنانے کے لئے جو دیگر پانچ وفاقی بورڈز کا اعلان کیا ہے یا انہیں معرض وجود میں لایا ہے یہ جعلی ڈگریاں دینی کی فیکٹریاں ثابت ہونگی اور حکومت کے مسلط کردہ بورڈز غیر اثر ہونگے بلکہ ہوگا یہ کہ قوم کے ٹیکسوںسے جمع ہونے والی رقم ان پر بغیر کسی فائدے کے خرچ کیا جائے گا، حکومت اپنی بد دیانتی اور نیتی کا تدارک کرے قوم کے ان محسنوں کو تکلیف دینے کی بجائے۔

ملک میں مہنگائی بے روزگاری اور غربت کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ،انہوںنے کہاکہ میں مدرسہ جامعہ جعفر طیارؓ خضدار کے مدیرو منتظم مولانا عبدالصمد قاسمی شاہوانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے روح پر محفل سجائی ہے جس میں علمائے کرام دین دوست طبقات کو مدعوکیا یہ خضدار و جھالاوان کے لوگوں کی خوش قسمتی ہے۔

اور انشاء اللہ جھالاوان میں دینی ادارے اسی طرح قائم و دائم رہیں گے اور نئی نسل کو دینی تعلیمات سے منور کرتے رہیں گے ، جے یوآئی کے سرپرست سابق ایم این اے مولانا قمرالدین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مدرسہ جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے دینی مجلس کا انعقاد خو ش آئندہ ہے اس پر میں جامعہ کے منتظمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاء گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس دینی جامعہ کو کامیابی اور کامرانی نصیب عطاء فرمائے ۔

رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام ان دینی اداروں کی محافظ جماعت ہے جس نے ہمیشہ دینی اداروں علمائے کرام اور طلباء کے لئے دفاع کا کردارنبہایا ہے،یہ خدمت و جدوجہد آئندہ بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیگا ، دینی مدارس بیک وقت رفاہی ادارے بھی ہیں اور قرآن و سنت کے مراکز بھی جنہوںنے غریب کے بچوں کو چھت بھی مہیا ء کیا ہے۔

ان کی کفالت بھی کررہاہے اور انہیں دنیاء و آخرت کی تعلیمات سے ہمکنار کررہے ہیں اس سے بڑھ کر ملک و ملت اور قوم کے لئے اور کوئی خدمت نہیں ہوسکتی ہے۔ جھالاوان سمیت پورے بلوچستان میں ان دینی اداروں کا اہم کردار رہا ہے جو دیہات و قصبوں میں قائم اور وہاں غریب بچوں کو زیور تعلیم سے منور کررہے ہیں ،یہ ان دینی اداروں اور ان کو چلانے وان کی سرپرستی کرنے والے علمائے کرام کا احسان ِ عظیم ہے۔

انشاء اللہ دینی اداروں کی یہ خدمت آئندہ بھی اسی طرح جاری و ساری رہیگا۔ میریونس عزیز زہری نے اپنے خطاب میں مولانا عبدالصمد قاسمی شاہوانی کومبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس نے اس دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی اورمختصر مدت میں اسے کامیابی کے نھج پر لیکر آیا ، اور ہر سال روحانی مجالس منعقد کرکے سب بزرگان دین و علمائے کرام کو جمع کررہے ہیں یہ ان کی محنت لگن کا نتیجہ ہے۔

انشاء اللہ یہ کامیابیاں آئندہ انہیں اسی طرح نصیب ہوتی رہیں گی ۔ دستارِ فضیلت کانفرنس کے اختتام پر شرکائے کانفرنس اور مہمانوں کو ظہرانہ بھی دیا گیا۔ جلسہ عام میں مولانا محمود الحسن قمرمفتی محمد اقبال شاہوانی ، مولانا نصراللہ شاہوانی مولانا عبدالغفار شاہوانی مولانا محمد اسماعیل شاہوانی ،مولانا عبدالصبور مینگل ۔

حافظ عبدالباسط مینگل ، مولانا میر محمد مینگل ، حافظ عبدالغفور قلندرانی ، مولانا عبداللہ قلندرانی ، مولانا جلیل احمد محمد شہی ، مولانا عبدالقادر محمد زئی ،سمیت مختلف سیاسی و سماجی شخصیات علمائے کرام اور صحافیوں نے کانفرنس میں شرکت کی ۔