چمن: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیرورکن قومی اسمبلی مولاناعبدالواسع،مولاناحافظ محمدیوسف،شیخ الحدیث مولاناسعداللہ،شیخ الحدیث مولاناعبدالبصیر،مولانامحمدایوب نے کہاہے کہ ہم دینی مدارس کی وفاقی تنظیمات کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے تمام وفاقوں کومستردکرتے ہیںاوراس کومغربی ایجنڈاسمجھ کرمدارس کوتقسیم کرنے کے حوالے سے سازش سمجھتے ہیں۔
کٹھ پتلی حکومت مولانافضل الرحمن کی تحریک سے خوفزادہ اوربوکھلاہٹ کاشکارہے،عمران خان کی حکومت نے قوم کوبین الاقوامی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں جکڑاکریرغمال بنایا،لیکن دینیمدارس کویرغمال بننے نہیں دیں گے،اگرحکومت نے مدارس کے خلاف سازش کی توملک بھرکے علماء کرام شدیدمزاحمت کریں گے اورقانونی جنگ لڑیں گے۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ؒٹاون میں دستارفضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرصوبائی وضلعی قیادت،مختلف اضلاع کے جیدعلماء کرام اورقبائلی عمائدین بڑی تعدادمیں اسٹیج پرموجودتھے،جب کہ خواتین بھی محفوظ نشست گاہ میں بڑی تعدادمیں موجودتھی،مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دینیمدارس میں پڑھنے والے طلبہ اس ملک کے وفاداراورآئین کے پاسدارہیں۔
ان کے خلاف سازشیں کرنے والے قوم کے مخلص اوررہنمانہیں ہوسکتے،دینی مدارس میں امت مسلمہ کے لئے بہترین اورباصلاحیت افرادکی تربیت کی جاتی ہے،دینی مدارس کے طلبہ نے امریکہ سمیت 48ممالک کوافغانستان میں شکست دی،آج اسی مدرسہ کے طالب علم ملابردارسے امریکہ جیسی سپرپاورکے اعلی حکام مذاکرات کررہے ہیں،پاکستان میں پی ڈی ایم کی سربراہی ایک مدرسہ کے فاضل مولانافضل الرحمن کررہے ہیں۔
جواعزازی طورپرنہیں بلکہ صلاحیت کی بنیادپرہے،انہوں نے کہاکہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیزنہیں،ملک پرامریت مسلط ہے اورآئی ایم ایف کے نمائندے ملک چلارہے ہیں،بدترین مہنگائی اورآئے روزہوشرباء ٹیکسوں سے غریب عوام کی کمرتوڑدی گئی۔
عمران خان ایک مہرہ اورکٹھ پتلی حکمران ہیں،ہم ناجائزاورجابرحکومت کوتسلیم نہیں کریں گے،26مارچ کے لانگ مارچ سے قبل حکومتی ایوانوں میں زلزلہ برپاہواہے،کرایے کے ترجمانوںکے ٹانگے کانپ رہے ہیں،قوم کونااہل،ناجائزاورکٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات دلائیں گے۔