اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی مائیں،بہنیں اور بیٹیاں اسلام آباد میں سڑکوں پر بیٹھیں ہیں، حکومت پیاروں کا جرم بتائے ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتوں میں بھی لاپتہ کئے گئے،ہمیں مظلوموں سے بحیثیت عوامی نمائندے معافی مانگنی چاہئیں۔جمعہ کو سراج الحق ڈی چوک اسلام آباد میں لاپتہ افراد کی دھرنے میں اظہار یکجہتی کیلئے پہنچے ۔
لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ لاپتہ افراد کی مائیں،بہنین اور بیٹیاں اسلام آباد میں سڑکوں پر بیٹھیں ہیں،ان کا ایک ہی سوال ہے کہ حکومت ان کے پیاروں کا جرم بتائے،اگر حکومت کے پاس جرم ہونے کا ثبوت پیں تو عدالتوں میں ٹرائل کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ صرف بلوچستان میں 528افراد لاپتہ ہیں،لواحقین کا مطالبہ انصاف پر مبنی موقف ہیں،ہزارہا نوجوان خیبرپختونخوا،پنجاب اور سندھ میں پتہ ہیں۔
ان میں سے کچھ کے وارثین کوذاتی طور پر جانتا ہوں،افرادصرف موجودہ حکومت دور حکومت میں لاپتہ نہیں کئے گئے،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتوں میں بھی لاپتہ کئے گئے،ہمیں مظلوموں سے بحیثیت عوامی نمائندے معافی مانگنی چاہئیں۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم خود یہاں آکر ان کے سروں پر دشت شفقت رکھتے۔
انہوںنے کہاکہ یہ لوگ پاکستان کے دشمن نہیں،یہ لوگ بھی پاکستان کو ٹیکس دیتے ہیں،حکومت جان لے،یہ لوگ قیامت میں بھی آپ کے گریبان میں ہو گا،لاپتہ افراد کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہونا چاہئے،اگر لاپتہ افراد نے جرم کیا ہے تو لاحقین کبھی رہائی کا مطالبہ نہیں کرینگے۔ انہوںنے کہاکہ رات کے اندھیروں میں ہونے والے کام منظور نہیں،آپ لوگ حق پر ہیں،پاکستان کا نظام ایک مجرم کی حیثیت سے آپ کے سامنے ہے۔احتجاجی دھرنے میں پی ڈی ایم قیادت بھی پہنچی ۔ احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم قیادت لواحقین کیساتھ یکجہتی کیلئے آئے ہیں۔
بد قسمتی اس ملک میں لوگوں کے بنیادی حقوق چھینے جاتے ہیں،آئین اور قانون کو ملک میں نافذ کرنے نہیں دیا گیا،پی ڈی ایم لوگوں کی عزت اور بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کر رہی ہے،سلیکٹڈ وزیراعظم ریاست مدینہ کے چمپئن ہونے کا دعوی ٰکر رہے ہیں،کیا ریاست مدینہ میں حکمران مائوں ،بہنوں کی سروں پر دست شفقت نہیں رکھتے ،یہ ریاست مدینہ نہیں،ریاست ہٹلر ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم تو ایک طرف لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کو بھی ماؤں،بہنوں کے سروں پر دست شفقت رکھنے کی توفیق نہیں ہوئی،پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر ٹھوس قانون سازی کرینگے۔
انہوںنے کہاکہ لواحقین کو یہ تک پتہ نہیں کہ ان کے پیارے زندہ ہے یا مر گئے ہیں۔ مولانا فضل غفوری حیدری نے کہاکہ جس حکومت سے توقع رکھے ہوئے ہیں یہ حکومت ہے اور نہ ہی اس کے پاس اختیارات ہیں،دن رات لاشیں پڑیں رہیں مگر وزیراعظم نے کہا میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔ انہوںنے کہاکہ ایسا احمق وزیراعظم ہے کہ غمزدہ خاندانوں سے دلجوئی کرنے کی بجائے ان کے زخوں پر نمک چھڑکایا،ریاست کے تمام اداروں کے سامنے لواحقین دھرنے پر بیٹھے ہیں،تمام ریاستی ادارے بے حصی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ اظہار یکجہتی کیلئے آنے والوں کو روکا جاتا ہے،یہ جمہوریت ہے یا فسطائیت ہے،یہ ظلم وجبر کیا گیا ہے کون اس کا ازالہ کریگا؟،پاکستان کو بچانا ہے تو ظلم وجبر کو بند کرنا ہو گا،بلوچستان رضاکارانہ طور پر ملک کو حصہ بنیا،مقتدر قوتیں ملک کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو رویوں میں تبدیلی لائے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت عقوبت خانوں میں موجود افراد کے بارے میں تفصیلات بتائے۔
جو اس دنیا میں نہیں ان کے بارے میں بتایا جائے،پارلیمنٹ میں بھی اس بارے آواز بلند کرینگے۔سید نیئر حسین بخاری نے کہاکہ یہ کرب و درد لوحقین سے زیادہ کوئی محسوس نہیں کر سکتا،لاپتہ افراد کمیشن سے بھی لواحقین نے قانون کے مطابق دیکھنے کا مطالبہ کیا۔سینیٹر کبیر محمد شاہی نے کہاکہ لواحقین ہزاروں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے یہاں پہنچے ہیں،یہاں ریاسی اداروں کے سامنے لواحقین سوال بن کر بیٹھے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آئین پاکستان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے،اس ملک کی خطر انکو قانون کے کٹہرے میں لاکر ٹرائل کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ لاپتہ افراد کا معاملہ ریاست کے ماتھے پر بد نما داغ ہے۔
سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہاکہ اس معاملے پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی حکومت بھی بے بس تھی،نام نہاد جمہوریتوں میں بھی غیر جمہوری قوتیں مداخلت کرتی رہیں۔ انہوںنے کہاکہ منتخب وزرائے اعظم کوکرسیوں سے اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیا،پی ڈی ایم آئین اور قانون کی بالادستی چاہتی ہے،سپریم کورٹ سے اس معاملے پر سو موٹو ایکشن کی توقع رکھتے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے زا ہد خان نے کہاکہ لاپتہ افراد انصاف کے لیے عدالتوں کو دیکھ رہے ہیں ،ملک کے سب سے انصاف کے گھر کو دیگر معاملات میں الجھایا ہوا ہے۔سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ لاپتہ افراد کا سلسلہ آج سے نہیں بہت پرانا ہے،لاپتہ افراد کے اہلخانہ ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد مجبوری کے عالم میں یہاں آئے،صاف صاف بتایا جائے کتنے لاپتہ شہید ہوچکے ان کے مقبروں کی نشاندہی کردیں۔