کوئٹہ: سابق رکن قومی اسمبلی اور ممتاز سیا سی و قبائلی رہنما سر دار کمال خان بنگلزئی نے وفا قی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلو چستان کے زمینداروں کے ذمے سبسڈی کی مد میں دو سال سے جو و ا جبات ہیں وہ کیسکو کو ادا کئے جائیں تاکہ زمیندار طبقہ ذہنی کو فت اور مشکلات سے نکلے اور سا تھ ہی سا تھ بجلی کی فراہمی جو کہ 8گھنٹے سے کم کر کے تین گھٹنے تک کی گئی ہے۔
اس میں بھی بہتری لائی جائے ۔ یہ با ت انہوںنے کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر ملا قات کر نے والے زمیندا روں کے مختلف وفود سے بات چیت کر تے ہوئے کہی۔ سابق رکن قومی اسمبلی سر دار کمال خان بنگلزئی نے کہاکہ بلو چستان کے زمینداروں کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بجلی کی سبسڈی کی مد میں جو رقم ملتی ہے وہ گز شتہ دو سالوں سے بندہے دوسری جانب کیسکو نے بھی زمیندا روں کو بجلی کی ترسیل کم کر دی ہے جو کہ 8گھنٹے سے 3گھنٹے تک تہم گئی ہے ۔
جس سے زمیندار طبقہ انتہائی پریشان اور ذہنی کو فت کا شکا رہے اور اب گر میاں آنے والی ہیں اگر صر ف 3گھنٹے ہی مختلف علا قوں میں بجلی فراہم کی جا تی ہے تو زمیندار طبقہ کی کمر ٹوٹ جا ئے گی با غات اور فصلیں جس میں اس موسم میں زیا دہ پا نی کی ضر ورت ہو تی ہے تباہ ہو جائیں گی بلو چستان میں زمیندار طبقہ پہلے ہی نان شبینہ کا محتاج ہوکر تباہ کن ہے۔
صورتحال یو ں رہی تو انتہائی تبا ہی ہو گی لہذا ضر ورت اس امر کی ہے کہ کیسکو پہلے تو لوڈ شیڈ نگ میں کمی کر ے اور دو بارہ 8گھنٹے کم سے کم بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے انہوں نے مزید کہا کہ وفا قی اور صوبائی حکومتوں سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ وہ کیسکو کے زمینداروں کے ذمے جو سبسڈی کی مد میں و اجبا ت ہیں انہیں فوراًً ادا کرے تاکہ صوررتحال بہتر ہو اور بلو چستان کے زمیندار جس ذہنی کوفت اور پر یشانی میں مبتلا ہیں اس سے نکل جا ئیں۔