کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چئیرمین جہانگیرمنظور،سیکریٹری جنرل عظیم بلوچ، سابق چئیرمین نزیربلوچ، سابق سیکریٹری جنرل منیرجالب اور نومنتخب کابینہ و سینٹرل کمیٹی اراکین پر مشتمل ایک وفد نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جونئیرٹیچرایسوسی ایشن، گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن،گورنمنٹ ٹیچر ایسوسی ایشن آئینی اورمحکمہ تعمیرات ومواصلات سے نکالے گئے۔
ملازمین کی جانب سے منعقدہ احتجاجی و بھوک ہڑتالی کیمپوں کا الگ الگ دورہ کرکے یکجہتی و تعاون کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بی ایس او کے چئیرمین جہانگیرمنظور،سیکریٹری جنرل عظیم بلوچ و دیگر نے کہا کہ حکومت کے تعلیم کش و عوام دشمن پالیسیوں نے بلوچستان کو احتجاج گاہ بنادیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ بی ایس او احتجاج پر بیٹھے ہوئے اساتذہ کے مطالبات کی بھرپورحمایت کرتی ہے۔
وفاق سمیت دیگر تینوں صوبوں میں جے وی ٹی، معلم ال قرآن کو ۹سے ۱۴گریڈ تک جبکہ جے اے ٹی، پی اے ٹی،جے ای ٹی،جے ڈی ایم کو سولہ گریڈمیں پرومیشن دی گء ہے جبکہ بلوچستان کے اساتذہ اس حق سے محروم ہیں۔محکمہ تعلیم میں نظم و نسق نام کی کوئی چیز نہیں۔ سفارشی بنیادوں پر معززاساتذہ کاتبادلہ کیا جاتا ہے۔گلوبل پارٹنرشپ کے تحت بھرتی ہونے والے خواتین اساتذہ سڑکوں پر ہیں۔
جبکہ مسلہ حل کرنے کے بجائے ان پر پولیس گردی کی گئی۔بلوچستان میں جونئیرکیڈرزکی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کو کچھ ہوا تو اس کیا ذمہ دار حکومت ہے۔ بی ایس او کی وفد نے محکمہ تعمیرات و مواصلات سے نکالے گئے ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی بدترین ناکامی قرار دی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نوجوان بے روزگاری سے خود کشی اور مختلف سماجی برائیوں کی طرف راغب ہورہے ہیں،ایسے حالات میں محکمہ بی اینڈ آر کے تین سو اکسٹھ ملازمین کو ایک ہی نوٹیفکیشن کے تحت فارغ کرنا عوام دشمن عمل ہے۔
نوکری سے نکالے گئے ۳۶۱ملازمین کے خاندانوں کا معاشی گزر بسر اسی ملازمت پر ہے۔ بی ایس او نے ہمیشہ مظلوم لوگوں کا ساتھ دیا ہے۔ احتجاج پر بیٹھے ہوئے مظاہرین کے ساتھ ہرممکن تعاون کرینگے۔