|

وقتِ اشاعت :   March 26 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی وفد نے چئیرمین جہانگیرمنظور کی قیادت میں لاپتہ کبیر بلوچ،مشتاق بلوچ ،عطااللہ بلوچ اور لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین اور بی این پی کی جانب سے منعقدہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کرکے یکجہتی کا اظہار کیا۔وفد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری بالاچ قادر،سینٹرل کمیٹی کے ممبرز ڈاکٹرمقبول بلوچ،بانک نمرہ بلوچ،سیدآغاعدنان شاہ اور کوئٹہ زون کے اراکین شامل تھے۔

بی ایس او کی وفد نے وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چئیرمین ماما قدیربلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات کی۔اس موقع پر بی ایس او کے مرکزی چئیرمین جہانگیرمنظور کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کو سیاسی سرگرمیوں اور اپنے حقوق کے پاداش میں لاپتہ کیا جارہا ہے۔صوبے میں خوف کی فضا قائم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ لاپتہ افراد پر اگر کوئی جرم ہے۔

تو ان کو ریاست کے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ماورائے قانون گمشدگیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایس او نے ہمیشہ مظلوم بلوچ عوام کے سیاسی و آئینی حقوق کیلئے آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہینگے۔ کبیر بلوچ ،مشتاق بلوچ اور عطااللہ بلوچ کو آج سے بارہ سال پہلے لاپتہ کیا گیا تھا جو تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔

سیاسی سوچ و فکر پر قدغن انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی اور آئین شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے پر حکمرانوں کی خاموشی اس بات کی واضح ثبوت ہیکہ وہ کٹ پتھلی اور جعلی ہیں۔

اگر حکومت کے پاس اختیار ہوتا تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوجاتا۔بی ایس او کی وفد نے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر آواز اٹھاتے رہینگے۔