|

وقتِ اشاعت :   June 14 – 2021

خضدار:  سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف)کی جانب سے گزشتہ روز خضدار میں سالانہ آگاہی تقریب منعقد ہوا، جس میں اساتذہ، تعلیم دوست شخصیات سمیت طلبا و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ایس ایس ایف کے آگاہی سیشن میں طلبہ کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی کے استعمال، مختلف شعبہ جات و تعلیمی اداروں کے داخلہ پالیسی اور اسکالرشپس سمیت بلوچ طلبہ کو انکے قومی ذمہ داریوں کے متعلق تفصیل سے آگاہی دی گئی۔ تقریب میں اسٹیج کے فرائض تنظیم کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری فیاض بلوچ نے سر انجام دیئے۔تقریب میں پینلسٹس جنرل سیکریٹری قدیر شیخ، ترجمان نعیم بلوچ، تنظیم کے رکن شہناز بلوچ، حفیظہ بلوچ اور سینئر کارکن کبیر الٰہی شامل تھے، جنہوں نے طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں میں موجود مختلف شعبہ جات، داخلہ پالیسی اور اسکالرشپس کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی۔

تقریب سے سابقہ ایجوکیشنل سیکریٹری مہتاب بلوچ نے ٹیکنالوجی کی اہمیت اور استعمال پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں علم کے حصول میں ٹیکنالوجی کا کلیدی کردار ہے بشرطیکہ طلباءو طالبات اس کے مثبت استعمال سے واقف ہوں۔ موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے وہیں اقوام کی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بھی بن رہی ہے کہ اکثر لوگ لاشعوری طور پر ترقی پذیر اقوام کو کنٹرول کرنے میں آسانی پیدا کر رہے ہیں۔ تقریب سے ڈگری کالج خضدار کے لیکچرار نصراللہ بلوچ اور خضدار انجینیئرنگ یونیورسٹی کے وزٹنگ لیکچرار لال سجاد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں طلبہ کو اکیڈمک رہنمائی کےلئے ایس ایس ایف جیسے پلیٹ فارم کی اشد ضرورت تھی جس کی ان ساتھیوں نے سنگ بنیاد رکھ کر اپنی قومی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، امید ہے کہ اس سے خضدار سمیت پورا بلوچستان علم و آگاہی سے روشناس ہوگا۔ تنظیم کے چیئرمین فضل یعقوب بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اپنے اکیڈمک اسٹڈی کے ساتھ ساتھ اپنی قوم، تاریخ اور سماج کو ضرور پڑھیں تاکہ اپنے قومی ذمہ داریوں سے باخبر ہوں۔ انہوں نے کہا آج بلوچ طلباءو طالبات پڑھ تو رہے ہیں حتی کہ نامور تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود ہم مجموعی طور پر دیگر اقوام سے پیچھے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے

کہ ہماری تعلیم کا حصول قوم دوستی اور وطن دوستی کے فلسفے سے خالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بلوچ طلباءو طالبات اپنی قومی ضرورت کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے جتنا بھی تعلیم حاصل کریں اس سے انہیں ذاتی طور پر شائد فائدہ ہو مگر قوم کی ترقی کے تناظر میں انکا کردار صفر ہوگا، ہمیں اپنی قوم کو مجموعی طور دوسرے اقوام کے برابر لاکھڑا کرنے کےلئے نظریاتی و فکری بنیاد پر تعلیم کی ضرورت ہے۔