|

وقتِ اشاعت :   July 19 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں عید کے دن لاپتہ افرادکے لواحقین کی جانب سے کوئٹہ اور کراچی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے تنظیم کے ممبران کو شرکت کرنے کی تاکید کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ جہاں دنیا اس عیدکو خوشیاں منائے گی تو وہیں بلوچستان کی مائیں سالوں سے لاپتہ افراد کی جدائی پر غم و پریشانی میں مبتلاء ہوکر سوگ منارہی ہیں۔عیدکی خوشیاں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی غموں کو دوگنا کرینگی۔

بلوچستان کے ہرگھرمیں سوگ اور جدائی کا سماں ہے جسکی وجہ سے لوگ خوشی اور آسائش تواپنی جگہ بلکہ ہرلمحہ درد اور ازیت برداشت کررہے ہیں۔ترجمان نے مذید کہا ہے کہ انسانی حقوق کنونشن اور اقوام متحدہ کا چارٹر برائے انسانی حقوق سمیت پاکستان کا آئین اور عدالتیں کسی بھی شخص کی سیاسی عمل و نقل اور اظہار رائے آزادی پر قدقن سمیت کسی کو ماورائے عدالت جبری گمشدہ کرنے انسانی حقوق کی خلاف ورزی و سنگین جرم قرار دیتے ہیں۔

لیکن بلوچستان میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاپتہ جنکے لواحقین نے لانگ مارچ،عدالتیں،انسانی حقوق کے ادارے سمیت ہرطرح کے پرامن احتجاج کا راستہ استعمال کرکے انصاف کی اپیل کی ہے اس کے باجود لاپتہ افراد کومنظرعام پرنہیں لایا جارہا۔انھوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کا لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات اور اس مسلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کے باجود بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیاں زور سے جاری ہیں۔

رواں ماہ درجنوں طلباء کو مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کا شکار بناکر لاپتہ کردیاگیا ہے جس سے لاپتہ افراد کے لواحقین میں مزید تشویش پایاجاتا ہے۔انھوں کہا ہے کہ بی ایس او لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرف سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے کی جانے والی جمہوری جدوجہد کا ہمیشہ ساتھ ہے اور اس عید کو کوئٹہ ،کراچی سمیت دیگر شہروں میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے تنظیمی ممبران کو تاکید کی جاتی ہے اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔