|

وقتِ اشاعت :   August 6 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چئیرمین جہانگیرمنظور بلوچ نے سانحہ آٹھ اگست کے شہید وکلاء کی برسی کے موقع بی این پی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہونے والے تعزیتی ریفرنس میں تنظیم کی جانب سے بھرپور حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے شہیدوکلاء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے۔

کہ آٹھ اگست کا سانحہ بلوچستان کے سیاہ ترین دنوں میں یاد رکھا جائیگا جس میں بلوچستان کی علم و دانش اور انصاف کی راہ میں جدوجہدکرنے والوں کی آواز کو خاموش کردیاگیا تھا۔چئیرمین بی ایس او نے اپنے بیان میں کہا کہ سول ہسپتال کوئٹہ کے واقع میں شہادت پانے والے وکلاء بلوچستان کے مجموعی شعور و دانش تھے جنکے بچڑ جانے کا صدمہ ہمیشہ رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ وکلاء کو عدل انصاف اور سچ کی پاداش میں راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔سانحہ اٹھ اگست کو بلوچ قوم کبھی بھی بھول نہیں سکتا۔انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

جس میں یہاں کی علم و دانش اورذی شعور طبقے کو بارود کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماضی بھی میں یہاں پروفیسرز، ڈاکٹرز، سیاسی رہنماؤں اور وکلاء کو بے دردی سے قتل کیاگیا ہے۔ ایک مظلوم قوم کے غریب لوگوں کیلئے اچھی تعلیم حاصل کرنا پہلے ہی سے مشکل بنادیا گیا ہے جبکہ مختلف مشکلات و دشواریوں کے بعد جب کوئی تعلیم یافتہ طبقہ معاشرے کیلئے لڑتا ہے تو اسکو بم کا نشانہ بنادیا جاتا ہے۔

چئیرمین بی ایس او نے کہا کہ شہیدوکلاء کے بچے اور لواحقین اب بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔حکومت کی جانب سے انکی امداد کیلئے اعلانات تو بہت کیے گئے لیکن کسی نے بھی انکی داد رسی نہیں کی۔ سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ میں شہیدہونے والے وکلاء کی فکر اور سوچ ہمیشہ زندہ رہے گی۔