|

وقتِ اشاعت :   August 6 – 2021

کوئٹہ: نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ خان احمد یار خان ، بانی پاکستان محمد علی جناح میں 1947ء میں ہونے والے اسٹینڈ اسٹل معاہدے پرعمل نہ ہونے سے بلوچستان مزاحمت کا مرکز بنا ، بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے بل پر پہلے حل ہوا نہ آئندہ ہوگا ، انہی ہٹ دھرمیوں سے بنگلہ دیش جدا ہوا، حکومت واقعی مذاکرات چاہتی ہے۔

تو اس مذاکرات کی راہ ہمور کرنے کیلئے معاہدہ پر عملدرآمد کرانے کا اعلان کرے ۔ اپنے جاری بیان میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ سات اگست 1947ء کو آج ہی کے دن بلوچستان اسٹیٹ یونین کے سربراہ خان احمد یار خان اوربانی پاکستان محمد علی جناح نے اسٹینڈ اسٹل معاہدے پر دستخط کئے یہ معاہدہ ایک فیڈریشن کے اصولوں کا معاہدہ تھا مگر غاصب حکمران چاہتے ہیں۔

کہ معاہدے کا ذکر تک نہ ہو کیوں کہ ان لوگوں نے آئین کو نہ مانتے ہوئے یہاں ہر قسم کے حقوق غصب کئے ہیں انہی ہٹ دھرمیوںسے بنگلہ دیش جدا ہوا یہ ہٹ دھرمی مزید جاری رہتی ہے تو اس کا مطلب غاصب حکمران نہ عوام سے مخلص ہیں نہ ان کے پاس اس ملک کیلئے کوئی ایجنڈا ہے یہ لوگ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جو مستقبل میں ملک کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 74 سال پہلے ہونے والے معاہدے پر نیک نیتی سے عمل ہوتا تو آج بلوچستان اور باقی پاکستان پر امن اور خوشحال ہوتا۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک پر غاصب قوتیںبلوچستان اسٹیٹ یونین کے سربراہ کے معاہدہ کا احترام نہیں کرتیں تو کم از کم معاہدے پر بانی پاکستان کے دستخط کو دیکھتے ہوئے اس پر عملدرآمد کریں۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد مذاکرات اور امن کی خواہش مند حکومت فیڈریشن کے اصولوں کے تحت ہونے والے اس معاہدہ پر عملدرآمد کرے تو بلوچستان کے بہت سے معاملات وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ بہتری کی طرف جائیں گے اور بلوچستان کے لوگ اپنے آپ کو اس وفاق کا حصہ سمجھتے ہوئے پرامن سیاسی عمل کا حصہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کو ردی کی ٹوکر ی میں ڈالنے کے بعد حکمران بلوچستان کے معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں جو مسئلہ 73 سالوں میں طاقت کے ذریعے حل نہیں ہوا وہ مستقبل میں بھی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امن اور مذاکرات چاہتے ہیں حکومت واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو اس مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے معاہدہ پر عملدرآمد کا اعلان کرے تاکہ بلوچستان کے لوگوں اور وفاق میں اعتماد کی فضاء بحال ہو۔