|

وقتِ اشاعت :   August 9 – 2021

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں ڈیورنڈ لائن پر آمدورفت وتجارت کی بندش اور دونوں طرف کے مقامی عوام کو درپیش اذیت ناک صورتحال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ورلڈ ٹریڈآرگنائزیشن ان سنگین انسانی ،تجارتی قوانین کی خلاف ورزیوں کا فی الفور نوٹس لیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کو آئے روز مختلف حیلوں وبہانوں کے ذریعے بند کردیا جاتا ہے جس کا واضح مقصد ہمارے عوام کی معاشی قتل عام کرنا ہے اس وقت ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف ہزاروں لوگ مرد وزن ، بچے موجود ہیں اور چمن سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ محنت ومزدوری کیلئے جاتے تھے مگر ڈیورنڈ لائن کو ویش کے مقام پر مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے۔

حالانکہ اس سے پہلے غیر قانونی ،غیر انسانی خاردار تار لگاکر مختلف گائوں کلیوں کو تقسیم کیا گیا اور بہت سارے قبیلوں کی آباد زمینیں ، قبرستان ، چراگاہیں ، جائیداد وغیر سب کچھ ڈیورنڈ لائن کے اُس پار رہ گیا اور اب لوگ اپنے پیاروں کی تدفین کیلئے بھی قبرستان نہیں جاسکتے اور اب ظلم کی انتہا یہ ہوگئی ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے ڈیورنڈ لائن ویش کے مقام پر بند کردیا گیا ہزاروں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔

ہزاروں لوگ اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں لوگ نان شبینہ کیلئے مجبور ہوگئے ہیں بیمار لوگ خواتین ، بچے ، بزرگ شدید اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ جبکہ مذکورہ علاقوں میں قحط کی صورتحال اختیار کرچکی ہے لوگوں کو اشیاء خوراک وپانی کی قلت کا سامنا ہے اور اشیاء ضرویات سے مکمل طور پر محروم ہوچکے ہیں اور یہ مزید سنگین صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔

جس کی ذمہ داری موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ گزشتہ چند ماہ پہلے بھی ایسی صورتحال کی وجہ سے درجنوں لوگ شہید اور 100سے زائد لوگ زخمی ہوئے چمن شہر مکمل طور پر بند رہا اور اب ایک بار پھر حکومت دانستہ طور پر یہ کام کررہی ہے۔

بیان میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر ڈیورنڈ لائن پر ہونیوالی صورتحال کا نوٹس لیکر اسے 2اگست 2020سے پہلے والی حالت پر بحال کیا جائے تاکہ لوگوں کی انسانی آمدورفت اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوسکیں۔