کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ صوبے کی سلیکٹڈ نااہل ناکام صوبائی حکومت نے آج تک پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری وصوبائی صدر ملی شہید عثما ن خان کاکڑ کے قتل کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اپنی اس نااہلی اورناکامی کوچھپانے کیلئے صوبائی حکومت میں شامل صوبے کا سب سے کرپٹ ترین وزیر نور محمد دومڑ جوکہ صوبے میں کرپشن کے بے تاج بادشاہ اور مسٹر 25%پرسنٹ کے نام سے جانے اور پکارے جاتے ہیں۔
ان کی جانب سے سیاسی جمہوری پارٹیوں بالخصوص پشتونخوامیپ کے رہنمائوں کے بارے میں منفی بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیںاور گزشتہ روز اسمبلی فلور پر چور دروازے سے آنیوالے نوکر کی جانب سے پارٹی رہنمائوں کے ساتھ ہونیوالے واقعات جن میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر عثمان کاکڑ کی شہادت اور رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے کے معصوم فرزند اولس یار خان کے اغواء کے واقعات پر زہر افشائی کی گئی۔
اس سے مسٹر 25پرسنٹ کی غلامی ،اپنے آقائوں کی خوشنودی اور وطن اور پشتون دشمنی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر 25%پرسنٹ اب تک کئی پارٹیاں تبدیل کرچکا ہے اوریہ سیاسی پوندہ نئی حکم کے انتظار میں اگلی کوچ کیلئے پرتول رہا ہے اور تمام صوبے میںکرپشن کے نمبر ون وزیر کی حیثیت سے پہنچانے جاتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاست کسی بھی سیاسی پارٹی کا نصب العین ہوتا ہے پشتونخومیپ سیاست کو خدمت سمجھتی ہے۔
اور اپنے عوام کو شعور دینا پارٹی کے ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ پشتونخوامیپ کے بانی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے ملک کی قیام سے پہلے انگریزی سامراج اور ان کے حواریوں کے خلاف زبردست تاریخ رقم کی تھی اور ملک کی تشکیل کے بعدملکی تاریخ کے تمام غیر جمہوری ،غیر آئینی اور آمرانہ اقدامات کی مخالفت میں پارٹی رہبر عمرقید اور دیگر اکابرین قید وبند کی سزائیں بھگت چکے ہیں اور آج ملکی تاریخ کے تجزیہ نگار ماضی کے ان غلط فیصلوں آمرانہ حکومتوں اور اقدامات کو ملک کی بربادی کا اصل وجہ گردانتے ہیں ۔
اور اس وقت ملک کا معاشی دیوالیہ پن ، عالمی تنہائی ، سیاسی آئینی بحران ، سخت ترین مہنگائی اور بیروزگاری ملک کے 22کروڑ عوام کو ذہنی مریض بنا چکے ہیں۔ دوسری جانب ملک کا سیاسی انتظام سلیکٹڈ نااہل اور ناکام اور کرپٹ ترین کے حوالے کیا جاچکا ہے جب تک ابن الوقت سلیکٹڈ اور سلیکٹر سے عوام کو چھٹکارا حاصل نہیں ہوگا۔
ملک اور صوبہ ناکامی ،بربادی اور رسوائی کے چنگل میں دھنستا جائیگااور جیبوں کی ترقی کو صوبے کی ترقی کا نام دینا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکے کے مترادف ہیں اور اس کیخلاف آواز بلند کرناتمام جمہوری سیاسی پارٹیوں اور قوتوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں مسلط حکومت کے ہاتھوں ملک کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے ۔