کراچی : بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم ایک ایسے طالب علم سے محروم ہو چکے ہیں جواپنے لئے اور بلوچ قوم کے لئے روشن مستقبل کے ضامن تھے، آج بلوچ اس روشن مستقبل کے ضامن سے محروم ہے۔ حیات بلوچ ایک علم دوست, کتاب دوست اور ہر وقت قلم و کتاب سے منسلک باتیں کرنے والا نوجوان تھا, لیکن افسوس کہ آج ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حیات بلوچ کے لئے ایک روشن مستقبل کی امید ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حیات بلوچ کی موت کے بعد دو اور انسان زندہ لاش بن چکے ہیں، جو حیات کے والد اور والدہ ہیں حیات کی والدہ جس کے دو پٹے سے حیات کو گھسیٹتے ہوئے ان کے بوڑھے اور بے کس و لاچار ماں باپ کے سامنے ان کے لختِ جگر کو 8 گولیوں کے ساتھ چھلنی کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس موت کو حادثے کا نام دیا جاتا ہے جو کہ انتہائی دل چیر دینے والی بات ہے۔
اس ماں کے لئے جو روز اس دو پٹے کو دیکھ کر روتے ہوئے, سسکتے ہوئے, آہیں بھرتے ہوئے کسی کرب میں چلی جاتی ہے۔ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ 13 اگست اس ماں کے لئے اس باپ کے لئے ایک اور کربلا لے آیا تھا, ان کا مزید کہنا تھا کہ حیات کی موت کا ازالہ ہم چاہ کر بھی مکمل نہیں کر سکتے اور ہم اشک بار آنکھوں سے کہہ رہے ہیں۔
حیات تم سدا حیات رہو گے, حیات تم قلم کی نوک پر زندہ ہو, حیات تم کتاب کے ورق پر زندہ ہو, حیات تم نظریہ ہو ہر اس بلوچ کا جو کتاب دوست ہے, حیات تمہارا نام علم و دانش کا مترادف ہے اور حیات تم ہمیشہ زندہ رہو گے, کیونکہ جسم کی موت کوئی موت نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا حیات ہم تمہیں قلم و کتاب کو سرخرو رکھنے کے لگن میں اپنی جان دینے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ تیرے ہاتھ میں قلم ہے تیرے ذہن میں اجالا۔