|

وقتِ اشاعت :   August 15 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان بار کونسل کے وائس چئیر مین قاسم علی گاجزئی چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی ایوب ترین چئیرمین بین الصوبائی راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ چئیرمین ہیومن رائٹس امان اللہ کاکڑ نے جاری ایک بیان میں لاہور ہائیکورٹ کے چوتھے نمبرجج کو سپریم کورٹ میں تعنیات کرنے کی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے وکلاء نمائندگان نے سندھ سے پانچویں نمبر جج کو سپریم کورٹ میں تعنیات کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔

جس کے خلاف ملک گیر وکلاء کنوینشن بلانے کا فیصلہ کیا ۔بیان میں کہا کہ ایک بار پھر پنجاب سمیت دوسرے صوبوں سے سینئرز ججز کو نظرانداز کرکے چوتھے نمبرجج کو سپریم کورٹ میں تعنیات کرنے کا فیصلہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں ۔بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ وفاقی کورٹ ہے جس میں برابری اور سینارٹی کے بنیاد پر تعنیاتیاں ہونی چاہئے نہ کہ پسند نہ پسند پر بیان میں۔

کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے حالیہ اجلاس میں بھی چار پانچ کے تفریق سے یہ تقرری کی گئی ہے جس سے نہ صرف ادارے کے ساکھ کو نقصان پہنچا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں اس کے نتائج بھیانک ہوں گے بیان میں کہا کہ اگر جوڈیشری کے اندر سینارٹی اور میرٹ کا فقدان ہوگا تو دوسرے اداروں میں میرٹ اور انصاف کا کیا حال ہوگا ۔ وکلاء کے عظیم جدوجہد قربانیوں کے بعد عدلیہ کو بحال کیا گیا۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ججز کے تقرری کو میرٹ اور صاف و شفاف بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے پارلیمانی کمیٹی کے کردار کو خاصا اہمیت دیا گیا اور انیسویں آئینی ترمیم ایک سازش تھی جس سے آئین کے آرٹیکل 175 A میں ترمیم کرکے جوڈیشل کمیشن کے توازن کو بگاڑہ گیاپارلیمانی کمیٹی کے کردار کو سیکنڈری بنایا گیا ،تمام پارلیمانی پارٹی سے مطالبہ کیا۔

کہ وہ ججز کے تقرری کو صاف شفاف بنانے کیلئے 175 اے میں ترمیم کریں۔ بلوچستان بار کونسل ملک گیر وکلاء تنظیموں کے ساتھ ملکر جدوجہد جاری رکھے گی۔