|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2021

کراچی: بلوچ متحدہ محاذ کے زیر اہتمام بلوچ سیاسی ترقی پسند رہنما لالا لعل بخش رند کی گیارہویں برسی کے موقع پر ان کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد ملیر میں کیا گیا۔ تقریب میں لالا لعل بخش رند کے قریبی ساتھیوں نے ان کی زندگی اور جدوجہد پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔بلوچ متحدہ محاذ کے جنرل سیکریٹری اکبر ولی نے مہمانوں کو خوش آمدید کے کلمات ادا کرنے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر اصغر دشتی نے انجام دیئے۔

تقریب کے مہمانوں میں صدر مجلس یوسف مستی خان، عیسی بلوچ، اختر حسین ایڈووکیٹ، مجید ساندی، نور محمد شیخ، عظیم دھکان، لالا فقیر محمد، عبدالخالق زدران اور الہی بخش بلوچ نے لالا لعل بخش رند کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔مقررین کا کہنا تھا آج بلوچ اور دیگر مظلوم اقوام جس نہج پر پہنچ چکے ہیں انھیں اپنی شناخت اور قومی حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ لالا لال بخش رند کی جدوجہد قومی حقوق اور مظلوم طبقات کے لیے تھا، وہ مظلوموں کے آواز تھے اور رنگ و نسل اور مذاہب سے بالاتر ہو کر لوگوں کو اپنے حقوق چینی کی تلقین کرتے تھے، وہ اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی حامی تھے،انہوں نے اقلیتوں میں خوف کی فضا کو ختم کر کے انھیں سیاسی اور سماجی جدوجہد میں اپنے ساتھ ملایا، وہ ایک نڈر اور بے۔

باک انسان تھے جنہوں نے ایوبی آمریت اور بھٹو کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔مقررین کا کہنا تھا کہ ایوب خان کے دور میں جب لیاری والوں کو بیدخل کرنے کی تیاری شروع کی گئی تو لالا لال بخش رند وہ شخص تھے جنہوں نے لیاری بچاؤ تحریک کا آغاز کیا اور لیاری میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوا اس جلسے میں بلوچستان کے نامورسیاستدانوں نے،

بھی حصہ لیا۔ وہ نیشنلزم اور سوشلزم کے پیروکار تھے ان کی زندگی جہد مسلسل کی عبارات تھی۔آخر میں اس تقریب کا اختتام پر بلوچ متحدہ محاذ کے جنرل سیکریٹری اکبر ولی نے حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ عہد کیا کہ لالا لال بخش رند کے مشن کو آگے بڑھایا جائے گا۔