|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2021

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ میڈیا ڈیولپمنٹ بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ڈیولپمنٹ بل آزادی صحافت اور آزادی رائے پر پہلے سے عائد شدہ پابندیوں میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔بیان میں کہا وزیراطلاعات کی یہ منطق سراسر جھوٹ اورغلط بیانی پرمبنی ہے کہ میڈیا مالکان اس بل کے خلاف اور ملازمین اس کی حمایت میں ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا مالکان کی تنظیموں اورصحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (PFUJ) نیمتفقہ طورپر اس بل کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس بل کا مقصد آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کا گلہ گھونٹنا اورحکمرانوں کی بداعمالیوں کے خلاف بولنے اورلکھنے والوں کوعبرت کا نشان بنانا ہے۔

بیان میں مزید یہ کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے تین سالہ دور حکمرانی میں بیڈ گورننس کے ذریعے ہرشعبے میں ناکامیوں اور بد عنوانیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں ملک کی داخلہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ افغانستان کے اندر رونما ہونے والی تیز ترین تبدیلیوں کے پاکستان پرکیا اثرات پڑیں گے اس کے متعلق حکومت کوکوئی پروا ہی نہیں۔

خارجہ پالیسی کا سارا فوکس امریکی صدر کے ٹیلی فون کے انتظار پرلگا ہواہے۔کشمیر جوکہ خطے میں سات دہائیوں سے متنازعہ مسئلہ تھااس کی حیثیت ہندوستان نے بدل دی ہے اور اب اس مسئلے پر سعودی عرب سمیت کوئی بھی ہمارے موقف کی تائید میں نہیں ہے۔ملک پر قرضوں کے بوجھ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے معیشت زمین بوس ہے۔

مہنگائی ،بیروزگاری اوربدامنی عروج پر ہے حکمران کورونا ریلیف فنڈ پر بھی ہاتھ صاف کرچکے ہیں اس بدترین صورت حال میں حکومت کی کارکردگی سیاسی مخالفین کیخلاف انتقامی کارروائیوں اورگالم گلوچ تک ہی محدود ہے۔ نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا حکومت اپنی ناکامیوں پر پروہ ڈالنے کے لیے آئین سے متصادم قانون سازی کرناچاہتی ہے جس کا مقصد میڈیا مالکان اور صحافیوں کو ظلم وجبر کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے حق وصداقت کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔

لیکن نیشنل پارٹی حزب اختلاف کی جماعتوں ،ٹریڈیونینز اور دیگر پروفیشنل تنظیموں ،میڈیا مالکان اورصحافیوں کی تنظیموں کے ساتھ مل کرحکومت کو آئین سے متصادم عوام دشمن اور آزادی صحافت کے خلاف قانون سازی سے باز رکھنے کیلئے بھرپور مزاحمت کرے گیاور اس بل کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔