|

وقتِ اشاعت :   August 28 – 2021

کراچی: لیاری عوامی محاذ کے جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور وفاقی اداروں سے 22 ہزار ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف ٹینڑی روڈ لیاری جنرل ہسپتال کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کیا پھر ریلی کی صورت میں عثمان پارک فٹبال گراونڈ کے قریب پہنچے ریلی کے شرکاء نعرے لگا رہے تھے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لو۔عوام کو جینے دو۔وفاقی اداروں سے برطرفیاں نہ منظور۔نہ منظور۔فشری سے نکالے گئے ملازمین کو بحال کرو۔لیاری کے محنت کشوں کو جینے دو جینے دو۔

آخر میں لیاری عوامی محاذ کے جنرل سیکرٹری عبدالخالق زدران نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران ٹولہ نے تین سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے عوام کو علاج معالجہ کی صہولت سے بھی محروم کرکے ایڑیاں رگڑر رگڑر کر مرنے پر مجبور کر دیا ھے اسی طرح موجودہ عمرانی ٹولے نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب انہیں نوکریوں سے محروم کیا جارہا ہے حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کے فیصلے مطابق74 وفاقی اداروں سے 22 ہزار ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کے فیصلے پر محنت کشوں میں سخت مایوسی اور بیچینی کی لہر پھیل گئی عبدالخالق زدران نے کہا کہ اس فیصلے سے لاکھوں غریبوں کے گھرانے فاقاکشی پر مجبور کر دیئے جائیں گے۔

احتجاجی ریلیکے شرکاء نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں خصوصا جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کمی کرکے غریب عوام کو جینے کا حق فراہم کریں اور وفاقی اداروں سے برطرف کئے گئے اور فشری سے نکالے گئے 28 سو غریب ملازمین کو دوبارہ بحال کرکے عوام کو جیو اور جینے دو کا حق نہ دیا تو پھر موجودہ عوام دشمن حکمران ٹولہ اپنے انجام کیلئے تیار ہو جائے۔

ریلی میں لیاری عوامی محاذ کے صدر عیسی بلوچ، نائب صدر اصغر علی لاسی، ڈپٹی سیکرٹری کامریڈ واحد جان، پریس سیکرٹری وقاص اقبال، فنانس سیکرٹری کریم بخش، آفس سیکرٹری شہ رضا۔اراکین مجلس عاملہ ذاہد بارکزئی، غلام قاد، ۔دوست محمد انجینئر، ویراگ مہشوری، راجہ مہشوری، بابر خان، عمر بلوچ، نور بزنجو، عبدالحمید جدون، اصغر خان، عبدالوہاب بلوچ، احمد بلوچ سمیت دیگر نے شرکت کی۔