|

وقتِ اشاعت :   August 30 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنازیشن پجار کا مرکزی آرگنازنگ باڈی اجلاس مرکزی آرگنازر اسد غنی بلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور آیندہ کا لاحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے مرکزی آرگنازر اسد غنی بلوچ نے کہا ہے کہ دنیا کا سیاست ایک ایسے موڈ پر اچانک پہنچا کہ جس کا کسی کو وہم بھی نہ تھا دنیا کا واحد سپر پاور امریکہ بیس سالوں میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اتنا مجبور ہوا کہ افغانستان چھوڑ کے چلا گیا ۔

امریکہ کے اس پسپائی کو طالبان اور اس کے پاکستانی ہمنوا اپنی شاندار جیت اور کامیابی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکا کا شیرازہ بھاری اخراجات کے باوجود بکھر گیا ۔ ایک مرتبہ پھر رجعت بنیاد پرستی نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ افغانستان کے موجودہ حالات کے بعد پاکستان بالخوصوص بلوچستان بنیاد پرستی رجعت کلاشنکوف کلچر اور منشیات کا گڑھ بن جاے گا ۔ سامراج اور اس کے حواری پر تاریخ کا جبر ایک قہر بن کر ٹوٹی ہے پاکستان جو اپنی کمزور معیشت کی وجہ سے روز بروز غربت اور بربادی کے دلدل میں دھنس رہی ہے۔

جس کی وجہ سے عوام اور حکمران طبقے کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں ، دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہے کہ پاکستان اور اس کے اسٹیبلشمنٹ مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ آج دنیا واضح طور پر دو بلاک میں تقسیم ہوئی ہے ایک طرف امریکا اور اس کے یورپی اتحادی اور ناٹو ہیں دوسری طرف چین روس ایران اور ان کے حمایتی ہیں چین اور اس کا ٹرائیکا خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے تگ ودو میں ہیں اس ضمن میں چاینہ نے سی پیک اور بلٹ اینڈ روڑ انشیٹو کا شروعات بلوچ کے وطن سے کی ہے۔ لہذہ بلوچ قوم کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جسکا مقابلہ قومی یکجہتی کے ساتھ ہی کیا جاسکتا ہے۔