کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کا دوسرا مرکزی کمیٹی اجلاس زیر صدارت مرکزی وائس چیئرپرسن شبیر بلوچ کوئٹہ میں منعقد ہوا ہے۔ اجلاس میں سابقہ رپورٹ ، تنقیدی نشست ، تنظیمی امور اور عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال پر سیر حاصل بحث کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے میں مختلف فیصلے لیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وائس چیئرپرسن شبیر بلوچ کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنظیم کا بنیادی اساس ادارے سے وابسطہ وہی اراکین ہیں جو تنظیمی ڈسپلن اور اصولوں کو ہمہ وقت بالا رکھے ہوئے ہیں۔
تنطیمی ڈسپلن کی پاسداری کرنے والے اور ادارہ جاتی رویوں کو تنظیم میں پروان چڑھانے والے اراکین تنظیم کی محکمی اور مضبوطی کا ضامن ہیں۔مخلص اور سنجیدہ اراکین تنظیمی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر انھیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تنظیمی اور ادارہ جاتی رویوں کو پروان چڑھانے میں ادارے کی جانب سے منعقد تربیتی پروگرام ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے اراکین کی سیاسی تربیت اور فکری و علمی حوالے سے پختگی کیلیے جامع پالیسیاں ترتیب دی گئی جس کے باعث تمام زون تسلسل کے ساتھ اسٹڈی سرکل، لیکچر پروگرام اور سیمنار کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔
تنظیم کی جانب سے طلبا کی رہنمائی کے لیے کیرئیر کونسلنگ پروگرام سمیت جامعات میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ جامعات میں طالبعلموں کے مسائل کا حل اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف تنظیم کی جانب سے جمہوری طرز طریقہ اپناتے ہوئے احتجاجی عمل کا راہ اپنایا گیا۔انھوں نے مزید کہا کہ تنظیمی پروگرام میں خلل ڈالنے کیلیے گزشتہ برس سے تنظیم کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کاواحد مقصد تنظیمی اراکین میں ابہام پیدا کرتے ہوئے انھیں سطحی اور بے بنیاد بحث و مباحثے میں الجھانا ہے۔ ہمیں بطور ایک سیاسی طلبا تنظیم کے ارکان ایسی تمام قوتوں کا ادراک کرتے ہوئے اور ان کے بیخ کنی کیلیے تنظیمی پروگرام کو طالبعلموں تک سر کرنے کیلیے جدو جہد جاری رکھنا ہوگا۔
ایسی تمام پروپیگنڈوں کا بنیادی مقصد تنظیمی اراکین میں کنفیوڑن پیدا کرتے ہوئے انھیں تربیتی پروگرام سے دور رکھنا ہیاور اگر ہمارے اراکین ایسے پروپیگنڈوں کا شکار ہو کر سطحی بحث و مباحثے میں الجھے رہے تو ایسی تمام قوتیں تسلسل کے ساتھ خود کے پروپیگنڈہ میں کامیاب ہوتے رہیں گے۔ چنانچہ ہمیں اپنی تمام تر توجہ تنظیمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور تنظیمی پروگرام میں صرف کرنی چاہیے اور یہی عمل ہی ہمارے تنظیمی مظبوطی کا ضامن ہے۔
اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ عہد میں مخلص ، سنجیدہ اور فکر و شعور سے لیس اراکین بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے وارث ہیں جو اپنی تمام تر تنظیمی ذمہ داریوں کا ادراک رکھے ہوئے ہیں۔ تنظیمی اراکین کی جانب سے کسی بھی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہونا اور سطحی مسائل میں الجھے بنا تنظیمی پروگرام کو ا?گے لے جانا تنظیمی اراکین کا فکری و شعوری حوالے سے پختگی کا واضح دلیل ہے۔