|

وقتِ اشاعت :   September 4 – 2021

کوئٹہ: مانگی ڈیم شہدا کے شہادت کے المناک واقعہ اور دھرنا کمیٹی کے سربراہ نواب ایاز خان جوگیزئی کے فیصلوں کے مطابق آج پورے صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ،ضلعوں میں آل پارٹیز ، انجمن تاجران کے زیر اہتمام عظیم الشان احتجاجی مظاہروں ، جلسوں ، جلوسوں کا انعقاد ہوا۔احتجاجی مظاہروں اور جلسوںمیں عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے پر زور مطالبہ کیاکہ احتجاجی دھرنا کمیٹی کے تمام مطالبات جس میں فوری طو رپر ایف سی کو ضلع زیارت اور ہرنائی سے واپس کیا جائے۔

مانگی ڈیم لیویز شہدا سانحہ سمیت زیات اور ہرنائی میں رونماء ہونیوالے تمام دہشتگردانہ اور دیگر واقعات کی اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے اور ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنراور ایف سی کیپٹن کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے شامل ہیں کو فی الفور تسلیم کیا جائے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز احتجاجی دھرنا کمیٹی کے سربراہ نواب ایاز خان جوگیزئی نے احتجاجی شیڈول جس میں 3ستمبر کو صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرہ ، 4ستمبر کو مکمل شٹر ڈائون ہڑتال اور 5ستمبر کو تمام اہم قومی شاہراہوں کو مکمل طور بند کرکے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔٫

اس فیصلے کی روشنی میں گزشتہ روز 3ستمبر کو آل پارٹیز جس میں پشتونخواملی عوامی پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ،جمعیت علماء اسلام ، مسلم لیگ ن ،نیشنل پارٹی ، پیپلز پارٹی قومی وطن پارٹی ،جمعیت اہلحدیث اور مرکزی انجمن تاجران کے زیر اہتمام ہر تمام اضلاع میں احتجاجی ریلیاں ، جلسوس ، مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا ۔ جس سے آل پارٹیز کے مرکزی وصوبائی رہنمائوں ، احتجاج دھرنا کمیٹی کے منتظمین کے اراکین ، انجمن تاجران کے رہنمائوں نے خطاب کیا۔کوئٹہ کا عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ بمقام ٹیکسی اسٹینڈ سے برآمد ہوا جو شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے۔

باچا خان چوک پر جلسے میں تبدیل ہوا۔ جس سے دھرنا کمیٹی کے رکن یوسف خان کاکڑ، پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری عبدالرئوف خان ، مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر جمال شاہ کاکڑ ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جوائنٹ سیکرٹری حاجی ہدایت اللہ ، ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ، نیشنل پارٹی کے نیاز بلوچ،جمعیت اہلحدیث کے مولانا عصمت اللہ سالم ،مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، قومی وطن پارٹی کے عبدالجلیل بازئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے احسان اللہ افغان، اے این پی کے شاہ عالم ، دھرنا کمیٹی کے ممبران سردار فرید اللہ دومڑ ، ملک حبیب اللہ کاکڑ، مفتی حسین پانیزئی ،پشتونخوامیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ مانگی ڈیم زیارت لیویز شہدا کے سانحہ کو آج 10دن ہوگئے ہیںاور احتجاجی دھرنے کے شرکاء لاشوں کو رکھ آج بھی اپنے مطالبات کے حق میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سلیکٹڈ نااہل ناکام حکومت احتجاجی دھرنا کے شرکاء کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکاری ہیں جو کہ قابل افسوس ، قابل مذمت اور قابل گرفت عمل ہے۔ مقررین نے کہا کہ ایف سی سول فورس نہیں اور ایف سی حکام نے امن وامان کے نام پر سول انتظامیہ کے اختیارات پر قابض ہوکر ہر طرف من مانی شروع کررکھی ہے ایف سی کے آنے کے بعد امن وامان میں بہتری آنے کی بجائے لاقانونیت اور بدامنی زیادہ ہوگئی ہے ۔

جبکہ صوبے کے ہر ضلع کے عوام ایف سی کے ناروا اقدامات ،ناروا رویوں اور ہرشعبہ زندگی میں ان کے غیر قانونی مداخلت کے باعث احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔ دھرنا متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ایف سی کو ضلع ہرنائی اور ضلع زیارت سے فوری طور پر بیدخل کیا جائے اور صوبے کے باقی اضلاع میں ان کے چھین ، ناکہ وغیرہ ختم کرکے انہیں اپنے ایف سی قلعہ تک محدود کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ ایف سی ملکی فورس ہے اور انہیں اپنی ہی ذمہ داریاں نبھانی چاہیے وہ امن وامان کے نام پر عوام پر مسلط ہوچکی ہے اور ہر شعبہ زندگی میں مداخلت کرکے غیر قانونی اقدامات کے مرتکب ہورہی ہیں ۔

زیارت شہر میں آل پارٹیز کے زیر اہتمام عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ اور احتجاجی جلسہ ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جلسے کی صدارت ممتاز قبائلی رہنماء سردار محمد قاسم خان خان سارنگزئی نے کی جبکہ احتجاجی جلسہ عام سے جمعیت علماء اسلام کے دلاور خان ، صاحبزادہ محب اللہ ، مولوی نورالحق، مولوی جمیل دوتانی ، پشتونخوامیپ کے میراوائس خان ، نور محمد پانیزئی ،پی ٹی ایم کے جمیل پشتون ،فضل کاکڑ اور قبائلی رہنماء حاجی کریم خان پانیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمار ے شہدا کے جسد خاکی روڈ پر پڑے ہوئے ہیں۔

اور ہمارے تمام عوام دن رات سراپا احتجاج ہیں اور ہمارے برحق مطالبات کے حق میں صوبے کے تمام غیور عوام نے آواز بلند کی ہے لیکن سلیکٹڈ وزیر اعلی اور ان کی حکومت ہمارے برحق مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے بے حسی کا کردار ادا کررہے ہیں لیکن ہمارے مطالبات تسلیم کیئے بغیر احتجاج کو کسی صورت بھی کمزور نہیں ہونے دینگے ۔ انہو ںنے کہا کہ ایف سی غیر آئینی ،غیر قانونی اور عوام دشمن اقدامات میں مسلسل ملوث رہی ہیں اور ایف سی امن وامان کے نام پر زندگی کے ہر شعبے میں غیر قانونی مداخلت کررہی ہیں۔

اور اب مختلف محکموں کے پبلک پراپرٹی اور عوام کے جائیدادوں پر قبضے کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایف سی فورس کیخلاف نہیں بلکہ ایف سی فورس کے غیر آئینی غیر قانونی اختیارات اور ان کے عوام دشمن رویہ اور عوام دشمن اقدامات کیخلاف ہیں۔ اور اب ہمارے تمام عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ ایف سی کو ضلع زیارت سے نکال باہر کیا جائے اور امن وامان کے نام پر ان کو دیئے گئے تمام اختیارات ختم کیئے جائیں۔ ہرنائی شہر میں احتجاجی مظاہرہ اور احتجاجی جلسہ ہوا ۔

جس سے پشتونخوامیپ کے ملک سلام،ضمیر گل بہار ، حاجی عبداللہ شاہ ، اے این پی کے ضلعی صدر ولی داد میانی ، یوسف شاہ قادری اور پی ٹی ایم کے وہاب کاکڑ نے خطاب کیا اور شاہرگ میں احتجاجی مظاہرے کے بعد احتجاجی جلسے سے اے این پی کے ضلعی صدر ولی داد میانی ، پشتونخوامیپ کے لعل محمد خوستی ، محب اللہ ایڈووکیٹ، ضمیر گل بہاراور سابق چیئرمین ملک زمان ترین، مولوی عطاء اللہ ، حاجی وہاب ترین اور وہاب کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن وامان کے نام پر ہرنائی ،شاہرگ سمیت تمام ضلع کے عوام پر لاقانونیت اور بدامنی ایک سازش کے ذریعے مسلط کی گئی ہے جبکہ ہمارے ضلع کے تمام علاقوں میں ہمیشہ امن رہا ہے اور جس کسی نے بھی ہمارے ضلع کے امن وامان کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے تو ہمارے غیور عوام نے لیویز فورس اور پولیس کا ساتھ دیتے ہوئے ان تمام عناصر کی سرکوبی میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن اب علاقے میں ہر طرف ا نارکی ہے۔

رات کے وقت مختلف علاقوں میں فائرنگ ہوتی ہے اور غریب عوام پر خوف وہراس مسلط کیا گیا ہے اور ہر علاقے میں چھین لگاکر لوگوں کی دن رات تذلیل کی جاتی ہے اور ان تمام عوام دشمن اقدامات کی آڑ میں اس ضلع کے معدنی وسائل ، زمینوں پر قبضہ اور غیر قانونی ٹیکس ہیں ۔ جبکہ دہشتگردی اور امن وامان کے نام پر تمام عوام کو یر غمال بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فعال مضبوط اور مسلح لیویز فورس چاہیے اور ہماری لیویز فورس اب بھی علاقے میں ہر سطح پر امن وامان برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایف سی فورس کی غیر قانونی ، غیر آئینی اختیارات عوام دشمن اقدامات کسی صورت قابل قبول نہیں ضلع کے تمام عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ ایف سی فورس کے غیر قانونی اختیارات ختم کرکے انہیں ضلع سے باہر نکالا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مانگی ڈیم کے شہدا کے متاثرین کے مطالبات تسلیم نہیں کیئے گئے تو تحریک کو مزید شدت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ پشین میں زیارت دھرنا متاثرین کے مطالبات کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ ہوا اور سرخاب چوک پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس سے پشتونخوامیپ کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان ، سابق ایم پی اے سید لیاقت آغا ، اے این پی کے صوبائی نائب صدر حاجی اصغر علی ترین ، عبید اللہ عابد، صادق کاکڑ، پی پی پی کے ضلع صدر شیر محمد ترین ، مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سعد اللہ ترین ، جماعت اسلامی کے حسین درانی ، انجمن تاجران کے سید عبدالباری غرشین، دولت خان ترین ،نصیب اللہ کلیوال ، ٹرانسپورٹر ملک محمدرحیم کاکڑاور علی محمد کلیوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دھرنا متاثرین کے مطالبات تسلیم نہیں کیئے گئے۔

تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائیگا دھرنا متاثرین کے کمیٹی اور اس کے سربراہ نواب ایاز خان جوگیزئی نے برحق مطالبات رکھے ہیں ایف سی کے عوام دشمن رویہ اور غیر قانونی اقدامات کے باعث ہر ضلع اور ہر علاقے کے عوام مجبور ہوچکے ہیں کہ وہ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں ہیں۔ جبکہ مسلم باغ میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے سے پشتونخوامیپ کے ضلع سیکرٹری چیئرمین اللہ نور خان ، سردار آصف خان سرگڑھ، اے این پی کے صدر حاجی عبدالمالک ، انعام اللہ ، جمعیت نظریاتی کے حاجی مطیع اللہ ، متحدہ قبائل کے عنایت اللہ مہترزئی اور عبدالحمید منصوری نے خطاب کیا ۔ خانوزئی بازار میں احتجاجی جلسہ عام سے جمعیت علماء اسلام کے مولوی عبدالوود ، اے این پی کے عبدالباری کاکڑ ، پشتونخوامیپ کے حاجی عبیدا للہ اور واجد ووطن پال ، جماعت اسلامی کے محمد رسول ، انجمن تاجران کے حکیم جمال الدین ، اسد خان ،اولسی کمیٹی کے چیئرمین عبدالاحد اور حاجی محمد عظیم خان ، قاصد خان کاکڑ، ملک محمد حسین ، محمد عظیم کاکڑ ، ڈاکٹر جعفر اور حافظ رحمت نے خطاب کیا۔

موسیٰ خیل بازار میں احتجاجی مظاہرے سے پشتونخوامیپ کے عید محمد موسیٰ خیل، اے این پی کے خان میر لالا ، انجمن تاجران کے قلم جان ،شمس پشتون یار، سابق چیئرمین عجب خان نے خطاب کیا۔ چمن شہر میں احتجاجی مظاہرے سے پشتونخوامیپ کے عبدالعلیم پہلوان ، جمال خان اچکزئی ،اے این پی کے امجد ایڈووکیٹ، گل باران افغان ، کلیم اللہ، پی ٹی ایم کے مُلا بہرام ، مُلا عبداللہ اور انجمن تاجران کے حاجی صاحب جان اچکزئی اور جمال شاہ نے خطاب کیا ۔

لورالائی کے مظاہرے اور جلسہ عام سے پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری عبید اللہ جان بابت ، صفدر میختر وال ، سردار گل مرجان کبزئی ، دوست محمد لونی ، اے این پی کے ضلعی صدر منظور کاکڑ ،شیر زمان صافی ، سیٹزن کمیٹی اخلاص حمزہ زئی ،انصاف پینل کے اسفند یار کاکڑ، ورکرز یونین کے عجب خان ،انجمن تاجران کے صابر کدیزئی، قبائلی رہنماء ملک اختر گل حمزہ زئی ،راز محمد ترہ کئی اور مصطفی کمال نے خطاب کیا جبکہ ضلع ژوب میں احتجاجی مظاہرے وجلسہ عام سے عبدالقیوم ایڈووکیٹ، انور مندوخیل ، دائود خان ایڈووکیٹ، حافظ ناصر ، محمد دین خروٹی ، مولوی عبداللہ ، امان اللہ حریفال ،عبدالحمید ،بلوث خان کبزئی، باران کلیوال ، اجمل اعوان ، میروائس خان نے خطاب کیا۔