|

وقتِ اشاعت :   October 6 – 2021

کوئٹہ: تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والے بلوچی زبان کے مایہ ناز لکھاری و شاعر زوراخ بزدار کے اعزاز میں شعبہ بلوچی جامعہ بلوچستان کی جانب سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔جس میں شعبہ کے اساتذہ سمیت طالبعلموں نے شرکت کی۔

اجلاس میں بزرگ شاعر و لکھاری زوراخ بزردار نے کوہ سلیمان بلٹ میں بلوچی زبان پر ہونے والی تحقیق اور نوجوانونوں کی جدید شاعری کی جانب بڑھتی ہوئی رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں مکرانی و رخشانی ڈائلکٹ میں بلوچی شاعری نے جدید شکل اختیار کی ہے تو وہیں کوہ سلیمان کے نوجوان شعرا بھی شاعری میں جدت لارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے ہم ایک دوسرے سے ضرور الگ ہیں لیکن زبان،ثقافت،ادب میں مشترک ہیں۔ آج جو میٹھی بولی رخشان یا مکران میں بولی جاتی ہے وہی بولی ڈیرہ جات میں بھی بولی جاتی ہے۔بلوچ نوجوانوں کو چاہیے کہ جدید وقت و حالات کے مطابق بلوچی زبان و ادب میں سائنٹفک بنیادوں پر کام کریں۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ بلوچی چئیرمین ڈاکٹر رحیم بخش مہر نے بلوچی ڈیپارٹمنٹ میں تشریف آور ہونے پر زوراخ بزدار کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں سمیت شعبہ کے طالبعلموں کو انتہائی خوشی ہوتی ہے جب کوئی بلوچ شاعر،ادیب،لکھاری یا محقق یہاں آکر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریگا۔

انھوں نے کہا کہ شعبہ بلوچی کا ہمیشہ ہی سے کوشش رہی ہے کہ اپنے طالبعلموں کو کلاسیک سمیت جدید ادب کے درفشاں ستاروں کی فن سے واقف کرے۔ شعبہ بلوچی ایک قومی ادارہ ہے جہاں طالبعلموں کو اپنی زبان،ثقافت و ادب سے نہ صرف قربت پیدا کی جاتی ہے بلکہ انہیں تحقیق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

آخر میں شعبہ بلوچی کے اساتذہ نے زوراخ بزدار کو شعبہ کی ریسرچ جنرل ھنکین و دیگر کتابیں پیش کیے۔

اسٹیج کے فرائض شعبہ بلوچی کے استاد شریف میر نے سرانجام دیے۔