کوئٹہ: جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ بلوچستان میں وزارت ووزارت اعلیٰ کے حوس رکھنے والوں کیلئے ہر چھ ماہ بعد ایک وزیر اعلیٰ ہونا چاہیے۔بلوچستان میں ایف سی سے پولیس کے اختیارات واپس لیے جائیں۔پانچواں تحصیل جیوانی میں گھر گھر چھاپوں کی مذمت کرتے ہیں ایف سی اہلکار یہاں کے عوام کو انسان نہیں سمجھتے ا ن کے رویے سے اہل بلوچستان بیزارہیں ایف سی کو بلوچستان سے نکالاجائے ۔
31اکتوبرکو ملافاضل چوک پرمکران کے عوام کے دیرینہ سلگتے مسائل کے حل ،ظلم وجبر لاقانونیت کے خلاف پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ لائحہ عمل عوامی احتجاجی دھرنے کا اعلان کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے سوئی ڈیرہ بگٹی میں مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ دوردرازعلاقوں میں ایف سی چیک پوسٹ اہل علاقہ بلخصوص معتبرین ومعززین کیلئے غلط الفاظ ماں بہن کی گالی تک استعمال کرتے ہیں۔اس قسم کی سیکورٹی اہلکاروں کوفی الفور برطرف کیا جائے۔یہ سیکورٹی اہلکارایف سی کی بدنامی اور عوامی وسیکورٹی فورسزکو دست وگریبان کرنے والے ہیں ۔
چیک پوسٹوں پر عوام کی تزلیل کرنے والے اہلکار تعینات نہ کیے جائیں لگتا ہے ایف سی اہلکاروں کی کوئی تربیت نہیں کی جاتی یا عوام کی تذلیل والی تربیت کرکے تعینات کیے جاتے ہیں سیکورٹی فورسزکے رویے انتہائی نامناسب ،عوام دشمن وکلچر انسانیت وقبائلی نظام کے خلاف ہے بعض ایف سی اہلکاروں کے غلط رویے کی وجہ سے سیکورٹی فورسزسے علاقے کے عوام نفرت کرنے لگے ہیں سیکورٹی فورسزسے عوام کی نفرت دشمن کا فائدہ ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کی تذلیل بند کی جائے چیک پوسٹوں پر تعینات سیکورٹی وایف سی والوں کو سمجھا دیا جائے بصورت حالات خراب ہونے کے ذمہ دار حکومت ہوں گے ۔