|

وقتِ اشاعت :   November 4 – 2021

کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے کہا ہے کہ صحافی عبدالواحد رئیسانی قتل کیس میں گرفتار ملزمہ کی ضمانت پر رہائی پولیس کی جانبدارانہ تحقیقات کا نتیجہ ہے ۔ واقعہ کی جانبدارانہ تحقیقات کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے ۔

اپنے بیان میں رکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے مزید کہا کہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود مفرور ملزم قانون کی گرفت سے باہر ہے جبکہ واقعہ کے ماسٹر مائنڈ کو بھی پولیس کی ناقص تحقیقات کی بناء پر ضمانت پر رہا کردیا گیا،انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جی آئی ٹی کی تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے تو پھر عام لوگوں کوانصاف کون فراہم کریگا؟انہوںنے کہا کہ شہید صحافی کے قتل کی تحقیقات کرنے والے پولیس اہلکاروں سے اس ضمن میں باز پرس کی جائے ۔

انہوں نے واقعہ کی جانبدارانہ تحقیقات کرنے والے پولیس اہلکاروں کی فوراً معطلی کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس نے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان اسمبلی کو زیر کرنے کیلئے جنتی طاقت استعمال کی اس کا ایک فیصد بھی واحد رئیسانی قتل کیس کی تحقیقات کیلئے بروئے کار لاتے تو آج یہ دن دیکھنے نہ پڑتے اور مفرر ملزم بھی پولیس کی حراست میں ہوتا ، انہوںنے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ اسمبلی فلور پر ظلم کیخلاف مظلوم کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی متاثرہ خاندانوںکو تنہاء نہیں چھوڑے گی ۔ انہوںنے کہا کہ واحد رئیسانی قتل کیس کی جانبدارانہ تحقیقات اور مفرور ملزم کی عدم گرفتاری کیخلاف صوبائی ، قومی اسمبلیوں اور سینیٹ میں پولیس کا محاسبہ کریں گے۔