|

وقتِ اشاعت :   December 1 – 2021

بلوچستان کے مکران ڈویژن میں اس وقت عوام سب سے زیادہ سراپااحتجاج ہیں ،خاص کر ساحلی پٹی پر غیر قانونی ٹرالنگ اور سرحد پر ٹوکن سسٹم کے حوالے سے شدیداحتجاج کیاجارہا ہے، مکران کے لوگوں کا ذریعہ معاش سرحدی تجارت سے جڑا ہوا ہے پہلے اس کی بندش سے تاجرسمیت ہر طبقہ شدید متاثر تھا پھرٹوکن سسٹم نے مزید الجھائو پیدا کردیا جس پر تاجر، ڈرائیورز جو سرحد پر کاروبار کرتے ہیں عدم اطمینان کا اظہار کیا اور یہ بات سامنے آئی کہ منظور نظر افراد کو ٹوکن سسٹم سے نوازا جارہا ہے جبکہ بیشتر افراد شدیدمتاثر ہوکر رہ گئے ہیں۔بہرحال اب اس مسئلے کو وزیراعلیٰ بلوچستان نے حل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے اور اس پر تاجر سمیت ہرطبقہ مطمئن دکھائی دے رہا ہے۔

مگر ان معاملات کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے اگر مکران ڈویژن کے سرحد کو بندکردیاجائے گا تو لوگوں کی معاشی حالت بہت خراب ہوجائے گی کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے، بلوچستان کے زمینی حقائق سے اسلام آبادکو آگاہ ہونا چاہئے کہ یہاں کوئی بڑی انڈسٹری نہیں ،بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں کام نہیں کررہیں، روزگار کے انتہائی محدود ذرائع ہیں، لوگ پہلے سے ہی بدحالی کاشکار ہیں اس طرح کے عمل سے ان کاجینامحال ہوکر رہ جائے گا ۔ بلوچستان میں بیروزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جسے کبھی بھی حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات نہیں اٹھائے گئے جبکہ دوسری جانب مہنگائی کے طوفان نے عوام کو دوقت کی روٹی کے حصول میں مشکل میں ڈال دیا ہے ایسے بحرانات کے دوران پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے سہولیات کی بجائے مشکلات پیدا کرنا قطعی طور پر درست عمل نہیں ہے اس لیے بلوچستان پر اسلام آباد اپنی مہربانیاں کرتے ہوئے ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول آسان بنادے۔ دوسری جانب گوادر کے ساحل پر غیر قانونی ٹرالنگ نے ماہی گیروں کوفاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے اس لیے وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ دیگر مسائل میں قدم قدم پر قائم چیک پوسٹوں پر لوگوں کی تذلیل ودیگر معاملات شامل ہیں جن کو حل کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بات کی ہے۔

گزشتہ روزتربت میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہماری حکومت صرف بلند و بانگ دعوے نہیں کرتی بلکہ عملی اقدامات اٹھانے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربت سمیت بلوچستان کے تمام سرحدی علاقوں میں بنیادی مسئلہ روزگار کے حصول کا ہے جس کا بڑا انحصار بارڈر سے وابستہ ہے بدقسمتی سے امن و امان کی وجہ سے بارڈر تجارت مکمل طور پر فعال نہیں ہے۔ تربت آنے کا مقصد یہاں کے مسائل کو خود دیکھ کر ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت انہیں حل کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بارڈر ٹریڈ کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کرتے ہیں اور اس حوالے سے تیل سے وابستہ کاروبار کے لیے ٹوکن سسٹم مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے تاکہ سرحد کے دونوں جانب عوام آزادانہ طور پر شناختی کارڈ کے ساتھ تجارت کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی کی عوام کی کثیرتعداد ماہی گیری کے شعبے سے منسلک ہے جس کے لیے ہم اس شعبے کی ترقی کے لئے خاطر خواہ اقدامات کر رہے ہیں۔

ضلع گوادر میں محکمہ ماہی گیری،پاکستان نیوی،اور میری ٹائم سکیورٹی سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ بلوچستان کے حدود میں داخل غیرقانونی ٹرالنگ کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ بلوچستان کے ماہی گیروں کے مفادات کا بہتر انداز میں تحفظ کیا جا سکے۔ یہی مطالبات مکران ڈویژن کے عوام کے ہیں وہ صرف باعزت روزگار کے لیے سراپااحتجاج ہیں کہ انہیںمعاشی تحفظ فراہم کیاجائے گزشتہ کئی برس سے گوادر میں غیر قانونی ٹرالنگ کی جارہی ہے ماہی گیراس عمل سے شدید متاثر ہوئے ہیں، خدارا اب اس معاملے کو حل کرتے ہوئے ماہی گیروں کے لیے مزید سہولیات پیدا کی جائیں اور ساتھ ہی مکران کے سرحدی علاقوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مکران کے غریب عوام کی مشکلات میں کمی آسکے۔