|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2021

ملک میں معاشی بحران ہر دن گمبھیرہوتا جارہا ہے اور اس وقت موجودہ حکومت کو سب سے بڑا چیلنج اور مشکل کا سامنا صرف مہنگائی کے حوالے سے ہے، اول روز سے ہی معاشی معاملات کو درست سمت نہ دینے کی وجہ سے حکومت کی مشکلات بڑھتی گئیں اور اب بڑے بحران کی صورت میں سامنے ہیں جس سے ہر طبقہ بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے۔ مہنگائی کی جوشرح ریکارڈ کی جارہی ہے اس سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، عام آدمی کی آمدن سے کئی گنا زیادہ مہنگائی ہوچکی ہے اب مڈل کلاس بھی سفید پوش بن کر رہ گیا ہے صرف دو کلاس اس وقت ملک میںرہ گئے ہیں ایک اپرجبکہ دوسرا نچلا طبقہ ہے ۔اس سے مہنگائی اور معاشی صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے لوگوں کی زندگی مشکل میں پڑگئی ہے اور عوام کا شدید غصہ حکومتی ناقص معاشی منصوبہ بندی پر ہے۔

وزیراعظم عمران خان متعدد بار مہنگائی کے حوالے سے اجلاس کرچکے ہیں اور ٹائیگرز ٹیم کے علاوہ متعدد ٹیمیں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے تشکیل دے چکے ہیں مگر نتیجہ صفر ہے۔ ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان نے عوام کو سبسڈی دینے کافیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی تکالیف دیکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دے رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت احساس راشن پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی تکالیف دیکھتے ہوئے غریب ترین لوگوں کو اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دے رہے ہیں۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ احساس راشن پروگرام کے تحت پاکستان کے 20 ملین گھرانوں کو آٹا، گھی اور دالوں پر 1000 روپے دئیے جائیں گے۔ فنڈز ان گھرانوں کو دیے جائیں گے جن کی ماہانہ آمدنی پچاس ہزارروپے سے کم ہے۔

پروگرام رواں ماہ دسمبر کو ملک بھر میں شروع کیا جائے گا۔پروگرام کے تحت کریانہ اسٹورز کی رجسٹریشن جاری ہے۔ اور اب تک 15000 سے زیادہ کریانہ اسٹورز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ غریب گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائے۔وزیر اعظم نے کریانہ سٹورز اور ممکنہ فائدہ اٹھانے والوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ضلعی حکومت کے حکام کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی۔دوسری جانب گزشتہ روز اقتصاری رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز مارجن میں اضافے کی سمری منظور کرلی ہے۔سمری کی منظوری وفاقی وزیر برائے اقتصادی امورعمر ایوب کی زیر صدارت منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔اطلاعات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیٹرول پر ڈیلرز کا مارجن ایک روپیہ بڑھا کر 4 روپے 90 پیسے فی لیٹر ہوگا جبکہ ڈیزل پر منافع 3 روپے 30 پیسے سے بڑھا کر 4 روپے 13 پیسے کردیا گیا ہے۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مارجن بڑھانے کا اطلاق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر آئندہ نظرثانی سے ہو گا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پیٹرولیم ڈیلرز نے منافع کے مارجن میں اضافے کے لیے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کردیے تھے جس کے بعد حکومت نے مارجن میں اضافے کی یقین دہانی کرائی تھی۔اب وزیراعظم کی سبسڈی سامنے ہے تو دوسری جانب پیٹرول ڈیلرز کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہے اگر مارجن بڑھایا جائے گا تو اس کا میکنزم کیا ہوگا اس کا بوجھ کس پر آئے گایہ ایک بہت بڑا سوال ہے کیونکہ وفاقی وزیر حماد اظہر پہلے ہی کہہ چکے ہیں پیٹرول ڈیلرز کی بات مانی گئی تو اس کا بوجھ عوام پر پڑے گا لہٰذا عوام پر کسی طرح کی مزید مہنگائی نہ ہو، اب اس مسئلے کو کس طرح حل کیاجائے گا عوام کو ریلیف کیلئے کیا نئی حکمت عملی اپنائی جائے گی یہ ایک بہت بڑا سوال ہے؟