|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2021

جھوٹِفریب اور دھوکے سے اقتدار حاصل تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے زیادہ دیر تک اپنے پاس نہیں رکھا جا سکتا۔آج کل ملکی حالات کے پیش نظر عوام کو جھوٹے لولی پاپ دے کر اقتدار تک پہنچنے والی تحریک انصاف کے ساتھ وہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔جس صوبے سے تحریک انصاف کی ڈولی بڑی ٹھاٹھ باٹھ سے اٹھی تھی۔ اب اسی خیبر پختونخوا سے اس جماعت کا جنازہ اٹھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔اگر مزید اس حکومت نے اپنی ناقص پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی اور دوسری طرف حکومتی وزراء نے بیانات داغنے کی بجائے عملی طور پر آن دی گراؤنڈ اپنی کارکردگی کو اچھا ثابت نہ کیا تو دوسرے صوبوں میں اس جماعت کی تدفین ہو جائے گی۔خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے تحریک انصاف کو عبرت ناک شکست سے دوچار کر دیا۔کئی حکومتی برج الٹ گئے اور اہم وزرا آبائی علاقوں میں اپنے مضبوط کھلاڑیوں کو حکومتی مشینری کے ہوتے ہوئے بھی نہ جتوا سکے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے ضلع صوابی کی تین تحصیلوں ٹوپی، چھوٹا لاہور اور رزڑمیں پی ٹی آئی کے امیدوار ہار گئے جبکہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کے آبائی ضلع کوہاٹ میں تحریک انصاف میئر شپ کے انتخاب میں شکست سے دوچار ہوئی۔کوہاٹ میں وزیر مملکت شہریار آفریدی اپنی یونین کونسل سے بھی اپنے امیدوار کو جیت نہ دلوا سکے،گورنر شاہ فرمان کے آبائی علاقے بڈھ بیر سے ان کا امیدوار تحصیل چیئرمین نہ بن سکا، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کے حلقے پہاڑ پور میں تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وزیر مملکت علی محمد خان کے شہر مردان میں بھی پی ٹی آئی امیدوار میئر کی سیٹ پر ناکام رہا۔وزیر دفاع پرویز خٹک کے قومی اسمبلی کے حلقے میں شامل تحصیل پبی سے تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا،وفاقی وزیر عمر ایوب کے آبائی علاقے ہری پور کے تین تحصیل چیئرمینوں کی نشستیں نواز لیگ اور آزاد ارکان لے اڑے جبکہ ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان کے بھائی احتشام خان متھرا سے ہار گئے،صوبائی وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ تحصیل چمکنی میں اپنے امیدوار کو کامیاب نہ کرا سکے۔
حکومت کے وزیر مشیر جو کل تک پاکستان کو دنیا کا سستا ترین ملک کہتے ہوئے تھکتے نہیں تھے اب یوٹرن لیتے ہوئے اپنی شکست کی وجہ بھی مہنگائی کو قرار دیا ہے۔اس حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو اس نہج تک پہنچا دیا کہ آئے روز لوگوں کو ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا جاتا۔ وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست کی وجہ غلط امیدواروں کے چناؤ کو قرار دیا۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے لیکن ہارنے کی سب سے بڑی وجوہات میں پہلا نمبر مہنگائی اور ناقص کارکردگی کا آتا ہے۔تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں معیشت، احتساب،طرز حکمرانی اور سفارت کاری کے شعبے سے متعلق جو وعدے اور اعلانات کیے تھے وہ سارے کے سارے دھرے رہ گئے۔ الٹا آئے روز عوام پر مہنگائی کا بم گرا کر عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیاگیا ہے۔اس سے دو وقت کا نوالہ تک چھن لیا گیا ہے۔سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس حکومت کے آنے کے بعد ملک میں غربت دوگنا ہو گئی۔بے روز گاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،روزگار کی تلاش کے لیے ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا،تجارتی خسارہ کافی حد تک بڑھ گیا۔ مجموعی اور قومی پیداوار میں تنزلی ہوئی۔فی کس آمدنی نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔روپیہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔اندورنی اور بیرونی قرضوں کے سارے ریکارڈز ٹوٹ گئے ہیں،کوئی میگا ترقیاتی منصوبے نہ بن سکے۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان نتائج سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں۔ان انتخابات سے پی ٹی آئی کی غیر مقبولیت ظاہر نہیں ہوتی۔لیکن عمران خان بذات خود الیکشن کے نتائج دیکھ کر حیران ہوئے اور اگلے مرحلے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی خود نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی حکومت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ای سی پی نے پنجاب حکومت کو 120 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیا ہے۔حکومتی پارٹی کا جو حشر کے پی کے میں ہوا ہے۔ لگتا نہیں ہے کہ پنجاب حکومت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی چاہت میں ہے اور اگر کروائے گی تو حالات حاضرہ سے یہی معلوم ہوتا ہے شکست اس کا مقدر بنے گی۔اس حکومت کو دیگر صوبوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور دو ہزار تئیس کے جنرل الیکشن میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کیلیے سب سے پہلے مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہو گا۔اشیاء خورد نوش کی قیمتیں جو آسمان کو چھو رہی ہیں انہیں نیچے لانا ہوگاورنہ وہ وقت دور نہیں جب آنے والے بلدیاتی انتخابات اور ڈیڑھ سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔