|

وقتِ اشاعت :   December 25 – 2021

بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں سے گیس دہائیوں سے نکل رہی ہے مگر آج تک صوبے کے بیشتر علاقے اس گیس سے محروم ہیں اورچند علاقے جہاں خوش قسمتی سے گیس کی سہولت موجود ہے لیکن سردی کی آمد کے ساتھ ہی وہ بھی ناپید ہوجاتی ہے، گیس لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر کی کمی کا مسئلہ سراٹھاتا ہے۔ صارفین کو یہ مسائل عرصہ دراز سے درپیش ہیں مگر کبھی بھی سوئی سدرن گیس کمپنی کے آفیسران نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ ہمیشہ صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا ہے، کبھی میٹرز اتارے جاتے ہیں کبھی بھاری بھر کم بلز بھیجے جاتے ہیں جبکہ گیس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صارفین کو بلوں میں پی یو جی /سلو میٹر چارجز بھیجنے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر کسی کو سزاوار ٹھہرانا خلاف قانون اقدام ہے۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے سینئر قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر پی یو جی / سلو میٹر چارجز سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا۔عدالت کا کہنا ہے کہ کس طرح کسی صارف کو شک کی بنیاد پر پی یو جی / سلو میٹر چارجز اور پی یو جی / جی ایس ٹی چارجز بھیجے جاسکتے ہیں، یہ آئین کے آرٹیکل 8، 9 اور 25 سے متصادم ہے جو بنیادی انسانی حقوق و دیگر سے متعلق ہیں۔عدالت عالیہ نے ایڈیشنل ڈپازٹ چارجز سے متعلق قرار دیا کہ اگر کسی صارف کو اس سلسلے میں شکایت ہے تو وہ کنزیومر کورٹ سے رجوع کرے، مجسٹریٹس کی تمام عدالتیں کنزیومر کورٹس ہی ہیں۔بلوچستان ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی صارف کا میٹر اتارنے سے قبل صارف کو نوٹس جاری کیا جائے، اگر صارف کی جانب سے 15دن تک نوٹس کا جواب نہ دیا جائے تو پھر متعلقہ تھانے سے مدد لے کر صارف کی موجودگی میں میٹر اُتارا جائے۔عدالت نے پریشر ریگولیشن اسٹیشنز سے متعلق مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ سے پشین تک 160 پریشر ریگولیشن اسٹیشنز (پی آر ایس) ہیں جبکہ زیارت تک 72 پی آر ایس اور قلات و مستونگ تک پی آر ایس کی تعداد درجنوں میں ہے، جہاں لوگ اپنے علاقوں کو گیس پریشر کی بہتری کیلئے دوسرے صارفین کے گیس سپلائی کو بند کردیتے ہیں۔جس پر عدالت نے کمپنی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس پریکٹس کو روکے اور اگر اس سلسلے میں کمپنی حکام کو مشکلات ہیں تو وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور لیویز سے اس سلسلے میں مدد لے تاکہ کسی صارف کی حق تلفی نہ ہو۔سماعت کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے ضلع زیارت میں گیس پریشر سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ زیارت کے 6 ہزار سے زائد صارفین کو گیس کی فراہمی کیلئے کچلاک سے 16 قطر کے پائپ لائن سے گیس کی سپلائی شروع کی گئی لیکن راستے میں آنے والے 70 سے زائد علاقوں میں پریشر ریگولیشن اسٹیشنز و دیگر کے ذریعے زیارت کو گیس پریشر متاثر ہوجاتی ہے، اس لئے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ ضلعی انتظامیہ سے پی آر ایس سینٹرز کے ذریعے گیس پریشر میں کمی اور اس کی بندش کی غیر قانونی اقدام کی روک تھام کیلئے پولیس اور لیویز اہلکاروں کی تعیناتی کی استدعا کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیس پریشر کے مسئلے سے زیارت میں جونیپر درختوں کو خطرہ ہے، گیس کمپنی کو زیارت کے پہاڑی علاقوں تک گیس پہنچانے میں مشکل پیش آرہی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے زیارت وادی کیلئے خصوصی طور پر 8 انچ قطر کے 21 کلو میٹر پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے زیارت میں گیس پریشر کا مسئلہ حل ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گیس اور بجلی کے مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت ووکیشن جج بھی کرے گا، بعد ازاں آئینی درخواست کی سماعت 13جنوری تک ملتوی کردی گئی۔بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے اس مسئلے پر فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے امید ہے کہ سوئی سدرن گیس اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے صارفین کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے انہیں شدیدسردی میں سہولیات فراہم کرے گی۔ دوسری جانب گیس چوری کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر بلاتفریق کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ گیس چوروں کی وجہ سے غریب صارفین کو عذاب اٹھانا پڑتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں جبکہ شہری کرپٹ ذہنیت سے نکل کر ایمانداری کے ساتھ گیس میٹرکا استعمال کریں تاکہ یہ مسائل دوبارہ سرنہ اٹھائیں۔ چونکہ گیس چوری کے متعدد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے یہ قابل ستائش عمل ہے مگر گیس کی فراہمی سوئی سدرن کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کرے۔