|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2022

ملک میں حالیہ بحرانات انتہائی سنگین شکل اختیار کرتے جار ہے ہیں، عوام کو تسلی دینے کی بجائے اخلاق سے عاری معاملات موضوع بحث بن چکی ہیں۔ جب ملکوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے تو صاحب اقتدار، اپوزیشن سمیت تمام حلقے درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور آنے والے بحرانوں کو روکنے کیلئے قومی پالیسی بنانے کیلئے سرجوڑ لیتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی ماحول دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے نجی معاملات پر سیاست اور بحث کی جارہی ہے۔

کوئی بھی فریق ہو ذاتی و نجی معاملات کو لیکر بحث یا اسے اچھالنے کیلئے مہم جوئی کرتے ہیں تو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ اس کی دستک آپ کی دہلیز پر بھی آئے گی سو جو کچھ ہورہا ہے قطعی طور ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔ حکومت،اپوزیشن کی اور اپوزیشن حکومت کی چھٹی کرانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے جبکہ ملکی حالات گھمبیر شکل اختیار کرتے جار ہے ہیں۔ معاشی مسائل، بیرونی چیلنجز، امن و امان سمیت مختلف نوعیت کے سنگین مسائل نے ملک کو گھیر کر رکھا ہے ان نازک حالات میں سب کو ایک پیج پر ہونا چاہئے تھامگر بدقسمتی سے ایسا نہیں، کوئی بھی فریق لچک کا مظاہرہ نہیں کررہا کہ ایک گرینڈ بیٹھک لگاکر موجودہ بحران پر بحث کی جائے،ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جائے۔

اگر یہی سیاسی رویے انا کی بنیاد پر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو عوام معاف نہیں کرے گی اور بڑے سے بڑے بحرانات مزید سر اٹھائینگے جنکو ملک اور عوام برداشت نہیں کرپائینگے لہذا حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن درمیانہ راستہ نکال کر مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک موجودہ بحرانات سے نکل سکے۔