|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2022

 اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی ریفرنس پر معانت کیلئے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دیئے جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ رکن کے ڈالے گئے ووٹ پر یہ کہنا کہ شمار نہیں ہوگا، ووٹ کی توہین ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے،آرٹیکل 63 اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے، عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں، ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیں، عدالت نے ارٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے، اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے، پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے، سیاسی نظام کے استحکام کیلئے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کیلئے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے، اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں۔جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلوچستان میں دونوں گْروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے، سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے،پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے، عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں، ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیں، عدالت نے ارٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ منحرف اراکین کی نااہلی کتنی ہوتی ہے، نااہلی کا اطلاق کب سے شروع ہو گا؟ ہمیں اس پر دلائل دیں کہ ہر معاملہ پارلیمنٹ خود کیوں نہ طے کرے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا۔

جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے، آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصل سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے، خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی، جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62 ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے، کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیے؟ کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے، ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے، اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے۔

اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کے خلاف ڈالے بغیر آرٹیکل63 اے قابل عمل نہیں ہو گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈیکلریشن پر کیا انکوائری کرے گا، کیا الیکشن کمیشن تعین کریگا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں، کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا۔قبل ازیں سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی گزشتہ سماعت والا ہی مسئلہ ہے، مناسب ہو گا کہ وکلا اور دیگر افراد باہر چلے جائیں، جو کھڑے ہیں وہ لاؤنج میں سماعت سن لیں، اس سے پہلے کہ عدالت کو سختی سے باہرنکالنا پڑے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب پہلے آپ کو سنیں گے، ہم نے سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کر رکھے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں ہم صوبوں کو بھی نوٹس جاری کریں؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہیے تو صوبوں کو نوٹس جاری کرسکتی ہے، صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کا حصہ ہیں،اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ میرے خیال میں صوبوں کا کردار نہیں، ہر عدالت کی صوابدید ہے، وزارت اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں جمع نہیں ہیں۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے معاونت کے لیے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دیے۔سماعت کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ میری درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ رضا ربانی صاحب ہم دیکھ لیتے ہیں، آپ کو بھی سنیں گے، پہلے جلسے کے خلاف کیس سن لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے متعلق حکام کو جلسے سے متعلق عدالتی احکامات بارے آگاہ کیا، جے یو آئی (ف) اور تحریک انصاف نے جلسے کیلئے درخواستیں دیں، جے یو آئی (ف) نے درخواست میں دھرنے کا کہا ہے، جے یو آئی (ف) کہتی ہے کشمیر ہائی وے پر دھرنا دیں گے، قانون کے مطابق ووٹنگ کے دوران دھرنا نہیں دیا جا سکتا، قانون کہتا ہے 48 گھنٹے پہلے جگہ خالی کرنی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! ہم نے آئین اور قانون کو دیکھنا ہے، ہم انتظامی امور میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ ہدایت دے کہ ماحول پرامن رہے۔جے یو آئی (ف) کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ہم نے کہا ہے کہ ہم پرامن رہیں گے، درخواست کا فیصلہ انتظامیہ کو کو کرنے دیں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ سے ڈرتے ہیں، جس پر کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں پھیل گئیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی (ف) اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی، کشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے، کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں، قانون کسی کو ووٹنگ سے 48گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا۔وکیل جے یو آئی (ف) کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے، ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی (ف) پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں۔سماعت کے دوران عدالت نے ڈی سی اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو کمرہ عدالت سے جانے کی ہدایت دے دی۔عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے بتایا صوبائی حکومت کا سندھ ہاؤس واقعہ پر پولیس نے بیان ریکارڈ کر دیا۔

آئی جی اسلام آباد سندھ حکومت کے موقف پر قانون کے مطابق کارروائی کرے، اٹارنی جنرل نے بتایا جے یو آئی ف نے درخواست دی، جے یو آئی (ف) نے کہا وہ کشمیر ہائی وے ہر جلسہ کریں گے، بتایا گیا جے یو آئی (ف) نے جلسے کے بعد کشمیر ہائی وے پر دھرنا کا اعلان کر رکھا ہے، جے یو آئی (ف) کے وکیل نے کہا دھرنا پرامن ہو گا۔عدالت نے کہا کہ جے یو آئی (ف) قانون کے مطابق دھرنے مظاہرے کرے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی ٹائیگر فورس اور ڈنڈا بردار فورس پر تشویش کا اظہار کیا۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹائیگر فورس، ڈنڈا بردار فورس بدقسمتی ہے۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد سے بات ہو گئی ہے، پولیس کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ پولیس قانون کے مطابق کاروائی کررہی ہے، صوبائی حکومتیں بھی تحریری طور پر اپنے جوابات جمع کروائیں، تحریری جوابات آنے پر صدارتی ریفرنس پر سماعت میں آسانی ہو گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ 1992 کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سندھ ہاؤس واقعہ پر سندھ حکومت کو سنیں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس پر دی گئی رائے پر سختی سے عملدرآمد کی پابندی پر دلائل دوں گا، منحرف اراکین کے ٹی وی پر انٹرویو چلے، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت پارٹی منشور پر الیکشن جیتنے والا پارٹی وفاداری تبدیل کرے تو اسے استعفیٰ دینا چاہیے۔