|

وقتِ اشاعت :   June 22 – 2022

ملک میں مقامی اخباری صنعت کو شدید خطرات لاحق ہیں جس کی بڑی وجہ اس صنعت پر خاص توجہ نہ دینا ہے۔ مقامی اخبارات سے بڑی تعداد میں غریب صحافیوں کا روزگار جڑا ہوا ہے ۔ پرنٹ میڈیا کا کردار اگر دیکھاجائے تو انتہائی اہم ہے جس میں عام لوگوں سے لے کر سیاسی جماعتوں تک سب کو بہت زیادہ جگہ دی جاتی ہے، علاقائی مسائل کی نشاندہی ان کی ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں ۔سب سے زیادہ اس وقت بلوچستان میں اخباری صنعت متاثر ہے جسے اشتہارات کی مدمیں اس طرح اہمیت نہیں دی جاتی جس طرح وفاق دیگر صوبوں کو دیتا ہے جبکہ بلوچستان حکومت اپنے بجٹ کے لحاظ سے اشتہارات دیتی ہے۔

مگر وفاقی حکومت کی جانب سے اشتہارات نہ ہونے کے برابر ہیں اس لیے بلوچستان میں اخباری صنعت زوال کی طرف جارہی ہے ،بلوچستان ملک کا اہم صوبہ ہے اور مستقبل میں ملکی ترقی کا سب سے بڑا راستہ ہے بلوچستان کے ساتھ ہر شعبہ میں زیادتیاں کی گئیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے سیاسی جماعتیں یہاں کی محرومیوں کے ازالہ کا ہر وقت ذکر کرتے رہتے ہیں مگر حکومت ملتے ہی بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیاجاتا ہے اورکئی دہائیوں سے یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے۔ بلوچستان میں ویسے بھی روزگار کے ذرائع انتہائی محدود ہیں جومقامی صنعتیں چل رہی ہیں وہ بھی ہچکولے کھارہی ہیں کیونکہ وہاں بھی بہت سارے مسائل موجود ہیں، اس لیے بلوچستان میں مزید شعبے جو روزگار فراہم کریں، ان پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے مگر جو صنعتیں موجود ہیں جن سے بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل اور روزگار وابستہ ہے ان پر تو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وفاقی حکومت کو چاہئے کہ بلوچستان کی اخباری صنعت کو ترقی وفروغ دینے کے لیے فنڈز میںاضافہ کرے اور بلوچستان کو ترجیح دی جائے۔ دیکھنے کو یہ بھی ملتا ہے کہ بلوچستان کے متعلق منصوبوں کے اشتہارات دیگر صوبوں کے اخبارات میں دیئے جاتے ہیںجوسراسر زیادتی ہے لہٰذاان اہم مسائل کو ایڈریس کیاجائے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات نے الیکٹرانک میڈیا کو فوکس رکھا اور مکمل طور پر اسی پر بات کی مگر اخباری صنعت کے حوالے سے کوئی بھی خاص اعلان نہیں کیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے۔سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترامیم لا رہی ہے اور اس حوالے سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں اور جو بھی ترمیم ہو گی تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ سابق دور میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ہاؤسز کے اشتہارات بند نہیں کیے گئے تاہم اب ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے دور میں چینلز کی کیٹیگری تبدیل کی اور 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چینلز کی درجہ بندی کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اے، بی اور تھری کیٹیگری کے لحاظ سے اشتہارات دیئے جاتے تھے اور درجہ بندی سے قبل پی آئی ڈی کا اشتہارات کا نظام بھی شفاف تھا۔ چینلز کی درجہ بندی پروگرام اور وقت کے حساب سے کی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اشتہارات کے اجرا میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا اور کسی چینل کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں رکھا گیا کیونکہ حکومت آزادی صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ادارے کی ضرورت کے مطابق اشتہارات جاری کرتا ہے۔بہرحال الیکٹرانک میڈیا بھی وقت اہم کی ضرورت ہے مگر پرنٹ میڈیا کے کردار کو نظراندازنہیں کیاجاسکتا اس لیے اس کی اہمیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پرنٹ میڈیا کی صنعت کو ترجیح دیتے ہوئے اس کے اشتہارات کے فنڈز میں اضافہ کیاجائے تاکہ مقامی اور خاص کر بلوچستان میں اخباری صنعت زوال کی بجائے مزید ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔