|

وقتِ اشاعت :   September 14 – 2022

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ( PM Shehbaz Sharif ) بلوچستان ( Balochistan ) کے سیلاب زدہ علاقوں ( Flood 2022 ) کے دورے پر آج بروز بدھ 14 ستمبر کو صحبت پور پہنچے، جہاں انہوں نے بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم بلوچستان کے ضلع صحبت پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب زدگان سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر ورزا اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف کو چیف سیکریٹری بلوچستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ میڈیکل کیمپس میں 4 لاکھ سے زائد افراد کو طبی امداد دی گئی ہے، جب کہ سیلاب سے صحبت پور میں ایک لاکھ 90 ہزار گھر تباہ ہوئے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ بحالی کے کاموں کو تیزی سے مکمل کیا جائے، سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں کے لئے افرادی قوت بڑھائیں، سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں، وبائی امراض کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکالنے کا کام تیز کیا جائے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے حکام سے مریضوں کے علاج معالجی اور ادویات کی فراہم سے متعلق بھی سوال کیا، جس پر سیکریٹری بلوچستان نے انہیں بتایا کہ مریضوں کیلئے موبائل اسپتال، نرس، وارڈ بوائے ، اضافی ادویات سب یہاں موجود ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں سانپ کے کاٹنے سے 2 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

حکام کی جانب سے وزیراعظم کو متاثرین کی مدد اور تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر کی بحالی کیلئے جاری کاوشوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد اور صحبت پور کے علاقے 2 ہفتوں سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں گرڈ اسٹیشن، سرکاری عمارتیں اور سڑکیں زیر آب ہیں جس کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں تحصیل گنداخہ کے ہزاروں متاثرین سندھ بلوچستان کی سرحد پر امداد کے منتظر ہیں۔ راشن، ادویات اور پینے کے پانی کی شدید قلت نے متاثرین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔

اس سے قبل دورہ بلوچستان کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 10 ارب روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ متاثر علاقے سندھ اور بلوچستان کے ہیں، تمام فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے صدور سے بات ہوئی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ وہ بھرپور تعاون کریں گے، ترکی سے 2 طیارے روانہ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے ڈیڑھ ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے، مشکل گھڑی میں دوست ممالک سے ملنے والی امداد پر شکر گزار ہیں۔

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل رات ایک شخص نے مجھے 6 کروڑ روپے دیے اور کہا میرا نام نہیں بتانا، ایک اور گروپ نے 45 کروڑ روپے دیے جو آج وزیر اعظم آفس کے اکاؤنٹ میں آجائیں گے۔ پورے پاکستان میں ہر متاثرہ خاندان کو وفاقی حکومت 25 ہزار روپے دے رہی ہے، کل ملا کر 38 ارب روپے پاکستان میں تقسیم کیے جا رہے ہیں اور یہ اگلے ہفتے تک تقسیم ہوجائیں گے۔

وزیر اعظم کے مطابق میں وفاق کی طرف سے بزنجو صاحب کی خدمت میں 10 ارب روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں۔