|

وقتِ اشاعت :   September 15 – 2022

تمام صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی تیسرے پارلیمانی سال کے مقابلے میں چوتھے پارلیمانی سال کے دوران اوقات کار، بجٹ اجلاس میں گزارے گئے دنوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی حاضری کے لحاظ سے کم رہی۔

رپورٹ کے مطابق تاہم خیبرپختونخوا (کے پی) اسمبلی نے دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ حاضری کے لحاظ سے سرفہرست رہے۔

یہ نتائج پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کی جانب سے جاری کردہ ‘چوتھے پارلیمانی سال کے لیے صوبائی اسمبلیوں کا تقابلی تجزیہ’ کے عنوان سے رپورٹ کے نتائج ہیں۔

اگرچہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس چوتھے پارلیمانی سال کے دوران صرف 60 روز کے لیے بلایا گیا لیکن اس نے دیگر صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے زیادہ دن کام کیا۔

چوتھے پارلیمانی سال میں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس 53 دن، پنجاب اسمبلی کے صرف 42 اور سندھ اسمبلی کے 41 اجلاس ہوئے۔

اگرچہ ایک سال میں ہر اسمبلی کے اجلاس کے اوقات کار کی تعداد مجموعی طور پر بہت کم ہے، تقابلی تجزیہ میں خیبرپختونخوا اسمبلی نے چوتھے سال کے دوران زیادہ وقت یعنی 126.05 گھنٹے تک اجلاس کیا۔

پورے سال میں سندھ کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس111.51 گھنٹے بلوچستان اسمبلی کا 91.10 گھنٹے تک جاری رہا، مجموعی اوقات کار کے لحاظ سے پنجاب اسمبلی اجلاسوں میں صرف 76.31 گھنٹے گزارنے پر چوتھے نمبر پر ہے۔

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ حاضری کے لحاظ سے پہلے نمبر پر رہے کیونکہ انہوں نے چوتھے پارلیمانی سال کے دوران سندھ اسمبلی کے 51.22 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔

اس کے بعد بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان رہے جنہوں نے بلوچستان اسمبلی کے 50.94 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے اسمبلی کے 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی اور چوتھے سال میں سب سے کم حاضری پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی رہی جو 10 فیصد رہی۔

دیگر صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں 60 قوانین منظور ہوئے جو چوتھے سال کے دوران سب سے زیادہ تھے۔

اس کے بعد پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے 35 بل، سندھ اسمبلی نے 28 اور بلوچستان اسمبلی نے 27 بل پاس کیے۔

خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی واحد اسمبلی ہے جس نے چوتھے سال کے دوران قانون سازی کی بہتر سرگرمیاں ریکارڈ کیں جہاں تیسرے سال کے مقابلے میں پاس ہونے والے بلز میں 45 فیصد اضافہ ہوا اور اسمبلی سے 33 بل منظور ہوئے۔