مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار نے اشتہاری قرار دیے جانے کے خلاف اپنی درخواست واپس لے لی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست نمٹاتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے 11 دسمبر 2017 کو سابق وزیر خزانہ کو اشتہاری اور مفرور قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو بدعنوانی کے ریفرنس میں مفرورقرار دیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اسحٰق ڈار کے کیس کی سماعت کی، عدالت نے اسحٰق ڈار کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو درخواست واپس لینے کی اجازت دی، وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل مزید علاج کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس لیے وہ اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسحٰق ڈار کو پاکستان واپس آنے پر گرفتار نہ کیا جائے، وہ وطن واپس آنے کے بعد عدالت کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو کو 23 ستمبر کو جواب جمع کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔
سلمان اسلم بٹ نے ڈان کو بتایا کہ درخواست کریمنل پراسیجر کوڈ(سی پی سی) کے سیکشن 75(2) کے تحت دائر کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار کے خلاف وارنٹ گرفتاری اُس وقت تک برقرار رہے گا جب تک عدالت اسے خارج نہیں کر دیتی۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے مؤکل عدالت میں خود پیش نہیں ہوجاتے عدالت کو ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری کا حکم واپس لینا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل وطن واپس نہیں آسکتے، ڈاکٹرز نے انہیں سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ ان کے پاس واپس آنے کے لیے پاسپورٹ بھی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 22 اگست کو اسحٰق ڈار نے عدالت عظمیٰ کے سامنے بیان دیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ان کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے بعد ان کی صحت بہتر ہونے کے باوجود وہ پاکستان واپس نہیں آسکتے۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ جس عدالت نے اسحٰق ڈار کو اشتہاری قرار دیا تھا، اس احتساب عدالت نے بھی وکیل کے ذریعے نمائندگی کی درخواست مسترد کردی تھی، چونکہ اسحٰق ڈار ذاتی طور پر عدالتی کارروائی میں پیش ہونے سے قاصر تھے اس لیے ان کے اثاثے قبضے میں لے لیے گئے یا فروخت کردیے گئے۔