|

وقتِ اشاعت :   September 25 – 2022

خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کی تحصیل مارتونگ کے علاقے ٹٹوالان میں جمعہ کی شب مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی فیصل زیب خان کے گھر پر حملہ کیا۔

 رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ایم پی اے کے گھر پر کیے گئے حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پولیس کے مطابق حملہ آور آدھے گھنٹے تک گھر پر فائرنگ کرتے رہے اور بعد میں علاقے سے فرار ہوگئے۔

پولیس نے عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما کے گھر پر حملے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

فیصل زیب خان کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے ضلع میں دہشت گردی کے ممکنہ دوبارہ سر اٹھائے جانے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان، وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام، صوبائی وزیر ثقافت و محنت شوکت یوسفزئی اور دیگر نے ضلع بونیر سے متصل علاقے ٹٹوالان میں فیصل زیب کے گھر پر حملے کی مذمت کی۔

ضلع بونیر سے متصل علاقے ٹٹوالان میں ماضی میں دہشت گرد حملے ہوتے رہے ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان ہفتے کے روز مہنگائی کے خلاف اور پارٹی سربراہ عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلے۔

پی ٹی آئی شانگلہ کے صدر لیاقت علی یوسفزئی، الپوری تحصیل کے چیئرمین وقار احمد خان اور بشام کے تحصیل چیئرمین سعید الرحمٰن کی قیادت میں الپوری میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

پی ٹی آئی کارکنان نے بڑھتی ہوئی ہوش ربا مہنگائی خاص طور پر خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکامی پر وفاقی حکومت کے خلاف نعرے لگائے جب کہ منہگائی نے غریب طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

پارٹی کارکنوں کا کہنا تھا کہ حکومت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کر کے قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ کسی کو پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے۔