|

وقتِ اشاعت :   October 3 – 2022

ملک میں آنے والے دنوںمیں سیاسی پارہ بڑھنے کا قوی امکان ہے اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے حوالے سے مکمل پلان مرتب کرلیا ہے اور ان کی طرف سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیاجائے گا۔ ملک کے مختلف حصوں سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے اور پی ٹی آئی ریڈزون ڈی چوک کو ہدف بنائے گا یقینا اس سے پورا اسلام آباد ویسے ہی جام ہوکر رہ جائے گااور دارالحکومت میں تمام تر معمولات ٹھپ ہوکر رہ جائینگے جس کے بڑے بھیانک اثرات مرتب ہونگے ایک طرف سیلاب جیسے بحران کا سامنا ملک کو کرنا پڑرہا ہے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہیں دنیاکے بیشتر ممالک اس وقت پاکستان کوتاسف کی نظرسے دیکھ رہے ہیں کہ فوری ریلیف فراہم کرکے انسانی بحران کو ٹالا جائے۔

مگر دوسری جانب المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی دھرنا دینے پر ہی پورا زور لگارہی ہے حالانکہ پی ٹی آئی کی دو صوبوں میںحکومت ہے وہاں بھی بڑے پیمانے پر سیلاب نے تباہی مچاہی ہے لوگ بری طرح متاثر ہیں ان پر توجہ دینے کی بجائے سارا زور جلسے جلوس اورسیاست کرنے پر ہے ، عوام کے ٹیکس کی رقم سے یہ سب کچھ کیاجارہا ہے اور یہی جماعت انصاف ، انقلاب اورتبدیلی کی بات کررہی ہے عوام کو ڈاکوؤں سے نجات دلانے کا دعویٰ کررہی ہے اور اپنی گورننس پرکوئی توجہ نہیں دے رہی کہ کس طرح سے مشکل وقت میں اپنے لوگوں کی تکلیف کو دور کیاجائے۔

سیاست کے لیے ابھی بہت وقت ہے بہرحال اس سیاست کی وجہ سے دنیا میں غلط پیغام جائے گا کہ ایک طرف ہم سے امداد کی درخواست کی جارہی ہے اور خود سیاست پر اپنے وسائل صرف کررہے ہیں تو کس طرح سے وہ پاکستان کے اس حالیہ سیلابی بحران کو سنجیدگی سے لینگے حالانکہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں خطرناک وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، بچے خواتین، بزرگ بری طرح متاثر ہورہے ہیں جبکہ اموات بھی رپورٹ ہورہی ہیں ۔خدارا اس بحرانی کیفیت میں سیاست سے گریز کیاجائے اور ملکی حالات پر توجہ دی جائے ،اپوزیشن کی جانب سے تیز وتند حملے کئے جاتے ہیں اسلام آباد کو مکمل بنداور حکومت کو گھر بھیجنے کی بات کی جاتی ہے تودوسری جانب حکومت بندوبست کی بات کرتی ہے یعنی مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہورہی ہے بلکہ مزید سنگین نوعیت کے آڈیواور ویڈیو لیکس پر سیاست ہورہی ہے۔

حساس نوعیت کے معاملات سامنے آرہے ہیں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالاجارہا ہے تمام توجہ سیاست پر ہی مرکوز ہے اور حالات کو مسلسل کشیدہ بنایاجارہا ہے ،دور دور تک بہتری کی امید دکھائی نہیں دے ہی ہے کہ فریقین بیٹھ کر سیاسی حوالے سے بات چیت کرکے الیکشن سمیت دیگر مسائل حل کریں مگر نہیں ایک کے بعد ایک آڈیو اور سائفر جیسے حساس معاملے پر نئی خبر سامنے آتی ہے اور سارا بحث کا رخ اسی طرف مڑجاتاہے اور ملکی معیشت مہنگائی، سیلاب بحران سے تمام تر توجہ ہٹ جاتی ہے جس کا براہ راست تعلق عوام سے ہے تمام سیاست عوام کی فلاح وبہبود پر کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں مگر مشکل وقت میں عوام کو چھوڑ کر سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس میں پی ٹی آئی سب سے زیادہ پیش پیش ہے کسی طرح کا لچک کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے ۔سائفر کھیل سامنے آگیا کہ کس طرح سے پلاننگ کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیاگیا، اب اس غبارہ سے ہوا نکل گئی ہے مگر اس کے باوجود اس پر سیاست کی جارہی ہے اور بیرونی سازش کا تذکرہ جلسے جلوس سے لیکر تعلیمی اداروں کے اندر نوجوان طالبعلموں کو گمراہ کرنے کا گھناؤناکھیل کھیل رہے ہیں افسوس کہ کرسی اوراقتدار ہی صرف مقصد ہے جس کے لیے سب کچھ داؤ پر لگایاجارہا ہے۔