|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2022

وزارت ماحولیات کی وزیر سینیٹر شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات کو صاف رکھنے اور آلودگی سے بچانے کیلئے اب ہم پہاڑی علاقوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے والے سیاحوں کو سخت سزا دیں گے، جب کہ دریاؤں میں کوڑا پھینکنے پر جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں تمام صوبوں کو ہاتھ ملانا چاہیے۔

پلاسٹک کا استعمال ترک کرنے کے حوالے سے اسلام آباد میں جمعرات 13 اکتوبر کو منعقد مشاورتی ورکشاپ سے خطاب میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے پلاسٹک کے نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کا استعمال سستا ہو سکتا ہے مگر جان لیوا ہے، پاکستان میں 4 فیصد پلاسٹک ری سائیکل کیاجاتا ہے، جس کی شرح بہت کم ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی آگاہی کے لیے مہم چلانا ہوگی، ہمیں اپنے رویےتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال سے متعلق ہمارے معاشرے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی، اگر یہ ہی صورت حال رہی تو سال 2050 میں دریاؤں میں پلاسٹک زیادہ اور مچھلیاں کم ہوں گی، تمام پلاسٹک آلودگی کا باعث نہیں ہوتے، نشاندہی کی ضرورت ہے کون کون سے پلاسٹک خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، قانون بنایا جائے، جرمانے کیے جائیں، جب کہ اس سلسلے میں آگاہی مہم کارساز ثابت ہوگی، ہم پلاسٹک پر نیشنل ایکشن پلان تیار کرنے جا رہے ہیں۔

 

اس موقع پر انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پہاڑی علاقوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے والے سیاحوں کو سخت سزا دی جائے، یہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے، دریاؤں میں کوڑا پھینکنے پر جرمانہ ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے۔ جس کیلئے ہمارے صوبوں کو ہاتھ ملانا چاہیے۔

شیریں رحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کی معیشتیں پلاسٹک پر پروان چڑھتی ہیں اور ایسا کیوں ہے کیونکہ متبادل مہنگے ہیں، زیادہ آمدنی والے گھرانے کے لیے یہ منتقلی آسان نہیں ہے، وہ غریب گھر کیا کرے گا جسے پانی کے لیے کمیونٹی پمپ تک نہیں مل رہے ہیں، سندھ اور بلوچستان میں ہر جگہ پانی ہے لیکن پینے کے لیے ایک قطرہ نہیں کیونکہ پینے کے قابل نہیں۔