|

وقتِ اشاعت :   October 27 – 2022

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اب تک عوام کے سامنے جو کچھ کہتے آرہے ہیں اور بڑے انقلابی بن رہے تھے کہ وہ بڑی تبدیلی لانے والے ہیں وہ بیساکھیوں کا سہارا کبھی نہیں لینگے بلکہ مرد مجاہد بن کر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے شخص ہیں نہ صرف ملک بلکہ دنیا کے عظیم لیڈروں کی طرح خود کو پیش کرتے ہیں، پاکستان کو دنیا بھر کی غلامی سے نجات دلانے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں، خود کوایماندار،دیانتدار سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جس طرح سے پنجاب میں کرپشن ہوئی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، فرح گوگی کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور اس میں یہ بھی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ اس میں مبینہ طور پر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی ملوث رہی ہیں جبکہ ان کے سابق شوہر اور بچوں کا نام بھی آرہا ہے۔

بہرحال تحقیقات کے بعد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا مگر اب پنجاب میں پی ٹی آئی کے منظور نظر وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالہٰی ہیں جسے کبھی وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو اور چور کہتے تھے لیکن اب اس کو بڑے صوبے کے اعلیٰ عہدے پر بٹھایا ہے جس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ عمران خان کے سامنے ایماندار اور بے ایمانی کا پیمانہ کیا ہے یعنی جو اس کے ساتھ ہے وہ دیانتدارہے اور جو چھوڑ کر جائے وہ غدار وطن ،کرپٹ ہے۔ عمران خان گزشتہ چند روز سے دبے لفظوں میں اہم پوسٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے یہ تذکرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ خوف کاماحول اسلام آبادمیں اس اہم شخص نے بنا رکھا ہے، درحقیقت وہ نام نہ لیتے ہوئے بھی سب کچھ بول رہے ہیں لیکن نہ جانے کس ڈر سے وہ نام نہیں لیتے۔

ویسے تو آئی جی اسلام آباد اور مجسٹریٹ سمیت ہر کسی کا نام کھل کر لیتے ہیں مگر اسلام آباد کی اہم پوسٹنگ پر بات کرکے ابہام پھیلاتے ہیں ۔ گزشتہ روز عمران خان کے بیانیہ انقلاب اور ارشد شریف کیس کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کھل کر بات کی جس میں سائفرسمیت پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر بھی بات کی گئی ۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے سابق حکومت نے آرمی چیف کو غیرمعینہ مدت تک توسیع دینے کا کہا تھا۔ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ میری واضح پالیسی ہے کہ میری تشہیر نہ کی جائے، آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے آیا ہوں، میرے ادارے کے جوانوں پر جھوٹی تہمات لگائی گئیں اس لیے آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ارشدشریف یہاں تھے تو ان کا ادارے سے رابطہ بھی تھا، جب وہ باہر گئے تب بھی انہوں نے رابطہ رکھا، ارشد شریف واپس آنے کی خواہش رکھتے تھے، ان کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا، جب کے پی حکومت نے تھریٹ الرٹ جاری کیا تو ہماری تحقیق کے مطابق ایسا کچھ نہیں تھا۔ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ جھوٹ سے فتنہ و فسادکا خطرہ ہوتو سچ کاچپ رہنا نہیں بنتا، میں اپنے ادارے، جوانوں اور شہدا کا دفاع کرنے کے لیے سچ بولوں گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شہیدوں کا مذاق بنایا گیا، اس میں دو رائے نہیں کہ کسی کو میر جعفر، میر صادق کہنے کی مذمت کرنی چاہیے، بغیر شواہد کے الزامات کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھاکہ نیوٹرل اور جانور کہنا اس لیے نہیں کہ ہم نے کوئی غداری کی ہے بلکہ یہ سب اس لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ ہم نے غیر قانونی کام سے انکار کیا، غیر قانونی کام سے انکار فرد واحد یا صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں پورے ادارے کا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے مزید کہا کہ بالخصوص اس سال مارچ سے ہم پربہت پریشر ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ خودکو آئینی کردار تک محدود رکھنا ہے، جنرل باجوہ چاہتے تو اپنے آخری چھ سات مہینے سکون سے گزارسکتے تھے لیکن جنرل باجوہ نے فیصلہ ملک اورادارے کے حق میں کیا، جنرل باجوہ اوران کے بچوں پرغلیظ تنقیدکی گئی۔یہ پریس کانفرنس عمران خان کے بیانیہ اور تضادات کو واضح کرتا ہے جس کے جواب کے منتظر سب ہیں کہ عمران خان بتائے کہ وہ راتوں کو ملاقات کرکے اقتدار ہی چاہتے ہیں ان کا تمام تر بیانیہ اور جدوجہد محض بلیک میلنگ پر مبنی ہے اس کے آگے کچھ نہیں ۔