|

وقتِ اشاعت :   November 9 – 2022

پاکستان میں حالیہ غیرمعمولی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے دنیا بھر کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اس وقت بھی متاثرین شدید پریشانی سے دوچار ہیں جن کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس اہم مسئلے کو اقوام متحدہ نے اپنے فورم سمیت ہر جگہ اٹھایا ہے۔

کہ ترقی یافتہ ممالک کی غلطیوں کی وجہ سے غریب ممالک بری طرح متاثر ہورہے ہیں خاص کر پاکستان اس سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔

اب موسمیاتی تبدیلی اوراس کے اسباب کو روکنے کے حوالے سے عالمی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں عالمی سطح پر کانفرنس منعقد ہورہی ہے کہ کس طرح سے موسمیاتی تبدیلی کا تدارک ممکن ہوسکے تاکہ آئندہ کوئی بڑا انسانی بحران پیدا نہ ہوسکے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ دنیا مہنگائی اور کساد بازاری سے تو بچ سکتی ہے لیکن موسمیاتی بحران سے نہیں۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے مصر میں جاری COP27 کانفرنس میں العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ ‘ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے مہم چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر لوگ اس بات کا خیال نہیں رکھیں گے کہ موسمیاتی تبدیلی انسان کے وجود کیلئے خطرہ ہے۔

تو وہ اس کی بہتری کیلئے سست روی کا مظاہرہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کساد بازاری اور مہنگائی سے بچنا مشکل ہے لیکن بچا جاسکتا ہے مگر بحیثیت انسان ہم جس چیز سے نہیں بچ سکتے وہ ایک غیر محدود موسمیاتی بحران ہے۔واضح رہے COP27 کانفرنس مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری ہے جس میں دنیا بھر سے ماہرین سمیت مختلف ممالک کے سربراہان نے شرکت کی اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے بحث زیر غور لائی جارہی ہے۔دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ریکارڈ توڑ بارشیں، طوفان اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے اسی سلسلے میں اقوام متحدہ نے طوفانوں سے خبردار کرنے کیلئے گلوبل early warning سسٹم بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے COP27 کانفرنس کے موقع پر کہا کہ 5 سال کے منصوبے پر 3 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔اقوام متحدہ کے مطابق ناکافی انفرااسٹرکچر والے ممالک میں آفات سے ہونے والی اموات اوسطاً 8 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ کانفرنس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 10سال کے دوران گرین انیشیٹو کے لیے ڈھائی ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

بہرحال موسمیاتی تبدیلی پر ترقی یافتہ ممالک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں اور اس حوالے سے اقوام متحدہ سمیت دیگر تنظیموں کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ اپنے مفادات کی خاطر دیگر ممالک کو تباہی سے دوچار کرنا سنگین جرم اور غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ حال ہی میں عالمی سطح پر کانفرنس اور دیگرفورمز پر موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام کے حوالے سے تجاویز پر عمل کیاجائے گا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایاجاسکے اور اس طرح کے غیر یقینی حالات پیدا نہ ہوں۔