|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2022

ملک میں ہر مسئلے کا حل اب سڑکوں کو بلاک کرکے نظام زندگی کو مفلوج کرنا ہی رہ گیا ہے۔ اپنے مطالبات منوانے سمیت کسی بھی معاملے پر تشدد کا عنصر غالب آتا جارہا ہے اور یہ رویہ کسی اور نے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے شروع کیا گیا ہے۔ عام شہری اپنی بنیادی سہولیات کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور گھنٹوں شاہراہوں کو بلاک کرکے رکھ دیتے ہیں۔

اس دوران جانی ومالی نقصانات بھی ہوتے ہیں، ایسا شہری کیوں کرتے ہیں لازمی بات ہے کہ وہ بیزاری کی انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں اور بہ امر مجبوری انہیں اپنے مسائل حل کروانے کے لیے یہ واحد راستہ دکھائی دیتا ہے تاکہ حکمرانوں کو ہوش آئے اوران کے مسائل حل کریں۔ اگر حکومت اپنی ترجیحات میں عوامی مسائل کو رکھیں پانی، گیس، بجلی سمیت دیگر سہولیات کے حوالے سے اقدامات اٹھائے یقینا شہری کسی صورت احتجاج کے لیے پُرتشدد راستہ نہیں اپنائینگے جبکہ اسی طرح سرکاری وغیرسرکاری ملازمین کا معاملہ ہے جب بھی ان کی تنخواہوں، الاؤنسز سمیت دیگر مراعات کا معاملہ آتا ہے تو وہ بھی سڑکوں پر نکل آتے ہیں یعنی احتجاج کا واحد راستہ صرف سڑکیں بلاک کرنا رہ گیا ہے ۔

جس میں تشدد کا عنصر لازمی غالب آجاتا ہے،توڑ پھوڑ ہوتی ہے،دوسری جانب سے شیلنگ، واٹرکینن کا استعمال کیا جاتا ہے، نقصانات جانی ومالی ہوتے ہیں ان مسائل کو کم ازکم حکومتی سطح پر حل کرنا ضروری ہے تاکہ عام لوگ تشدد پر نہ اترآئیں۔بہرحال بڑی سیاسی جماعتوں کا اگر اس حوالے سے جائزہ لیاجائے تو ماشاء اللہ سب ایک ہی ٹریک پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔مارچ، دھرنا، روڈ بلاک کرنا ان کی سیاست کا لازمی جزوبن گیا ہے۔پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو مارچ جلسے جلوس ریلیاں شروع ہوگئیں اسلام آبادمیں دھرنا دیا گیامگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اتناطویل اور پُرتشدد نہیں رہا مگر جب سے پی ٹی آئی حکومت سے باہر ہوگئی ہے اور اپوزیشن میں آئی ہے اس نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، آج بھی کے پی کے، پنجاب اور راولپنڈی کو مفلوج کرکے رکھ دیا گیا، تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ شاہراہیں بلاک ہونے کی وجہ سے لوگ رُل گئے ہیں مکمل زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ہر مقام پر احتجاج کیاجارہا ہے۔

اس سے بھی دوقدم آگے مظاہرین سیاستدانوں اور سیکیورٹی اداروں کے آفیسرز کے گھروں کے باہر حملہ آور ہورہے ہیں،طوفان بدتمیزی مچا رکھی ہے، گھروں کے اندر موجودخواتین اور بچوں کو یرغمال بناکر رکھ دیا ہے،اپنے مخالفین کو جہاں دیکھتے ہیں۔

ان کی پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتے ہیں، خواتین،بچوں اوربزرگوں تک کا احترام نہیں کرتے، ویڈیو بناکر غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں اور اسے بہترین انتقام کہتے ہیں۔ مگرجب ان کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا ہے تو بڑے بڑے لیکچر دینا شرع کردیتے ہیں، افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ غیرمہذبانہ لہجہ جس طرح سے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے، اسے تو کوئی بھلا انسان دیکھ بھی نہیں سکتا،اب تو حد کردی گئی ہے کہ غیر اخلاقی مواد باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کے ورکرز اپنے پیجز پرلگارہے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ یہ بات کرتے ہیں کہ یہ ہمارے سیاستدان ہیں اور جب ان کی لیڈر شپ سے بات کی جاتی ہے۔

تو ان کے زبان اور لہجے سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی ایماء پر ہورہا ہے جس کی ایک واضح مثال فواد چوہدری کا ڈی جی ایف آئی اے سے متعلق الفاظ ہیں کہ جب ان سے سوال پوچھا جاتاہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرسنل سیکریٹری نے ڈی جی ایف آئی اے کو واش روم کیوں لے کر گئے تھے جس پر وہ کوئی شائستہ جملے کا استعمال بھی کرسکتے تھے مگرغلیظ جواب دیا گیا جس کی ہر سطح پر مذمت کی گئی۔ انہی رویوں نے آج ملکی سیاست کو غیرمہذب بنا کر رکھ دیا ہے مگر یاد رہے کہ جو رویہ اب اختیار کیاجارہاہے پلٹ کر دوبارہ انہیں پر لگے گا۔