|

وقتِ اشاعت :   November 22 – 2022

بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی کے حوالے سے حکومت اوراپوزیشن سب ہی متفق ہیں مگر بدقسمتی سے مستقل بنیادوں پر معاشی پالیسی پر کام نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ہمارے میگامنصوبوں کے متعلق معلومات زیادہ رکھی جاتی ہیںکہ وہ اس وقت منصوبوں سے کتنا منافع کمارہے ہیں کتنا حصہ وفاق لے جاتا ہے ۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ منصوبے کے معاہدوں کے حوالوں سے بھی بہت ساری معلومات فراہم ہی نہیں کی جاتیں مگر یہ ذمہ داری بلوچستان کی سیاسی جماعتوں ،حکومت اوراپوزیشن سب کی ہے کہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے متعلق تمام تر معلومات سے آگاہ ہوںتاکہ بلوچستان میں چلنے والے منصوبوں کے محاصل کا جو حصہ ہے وہ حاصل کرنے ،اس کا مقدمہ لڑنے کے لیے تمام تر دستاویزات ان کے پاس ہوں۔

بہرحال بلوچستان کی پسماندگی اورمحرومی قابل افسوس ہے کیونکہ اہم ترین منصوبے جو ملکی ترقی وخوشحالی کاسبب ہیں ان سے یہ خطہ مکمل طور پر محروم ہے، اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ گزشتہ روز قائم مقام گورنر میر جان محمد جمالی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت اختیارات مل چکے ہیں۔ان اختیارات کو صوبے کے بہترین مفاد میں بروئے کار لانے کے لیے ملک اور صوبے کے مفکرین اور ماہرین ہماری رہنمائی کریں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا انحصار سازگار ماحول، دستیاب مہارت اور لیبر کی پیداواری صلاحیت پر ہے۔ اس ضمن میں پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکانومسٹس کی سالانہ کانفرنس کئی اہم سوالات کے پائیدار حل میں معاون ثابت ہوگی۔

بیوٹمز یونیورسٹی میں پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکانومسٹس کی 36 ویں سالانہ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کے دورا ن جان محمد جمالی نے کہاکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکانومسٹس کی 36ویں کانفرنس کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ستم ظریقی ہے کہ پاکستان کی خطے میں انوسٹمنٹ اور جی ڈی پی کی شرح بہت کم ہے۔ انوسٹمنٹ اور جی ڈی پی کی کم شرح کا ایشو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

ہمیں اس موجودہ صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے نئے آئیڈیاز پر کام کرنا ہوگا۔ قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے کہا کہ پاکستان کا روشن مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے اس یقین کے ساتھ بلوچستان بہت جلد معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔اگر موجودہ قائم مقام گورنر جان محمد جمالی کی تمام تر بیان کا لب لباب کا جائزہ لیاجائے تو اس میں یہی نظر آتا ہے کہ بلوچستان میں سب کچھ ہونے کے باوجود بھی محرومیاں ہیں ترقی کے وہ منازل طے نہیں کئے جو کرنے چاہئے تھیں اور اس کے اہداف حاصل کرنا ضروری ہیں۔ یہ دہائیوں سے آواز بلند ہورہی ہے کہ بلوچستان کی ترقی کو یقینی بنایا جائے اور یہ دعوے وفاقی حکومتیں خود بھی کرتی آئی ہیں، المیہ تو یہ ہے کہ بلوچستان ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں،اگر بلوچستان کا درد ہوتا تو آج اس کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ بہرحال بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ موجودہ حالات اور مسائل کے پیش نظر یکجاہوکر صوبے کا مقدمہ لڑیں تاکہ بلوچستان بھی دیگر صوبوں کی طرح ترقی کی دوڑ میں شامل ہوسکے۔